ایران کے ڈرون حملوں میں روسی معاونت؟ امریکی انٹیلی جنس نے تحقیقات شروع کر دیں

واشنگٹن / ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں واقع مبینہ امریکی انٹیلی جنس تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد امریکی انٹیلی جنس ادارے اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس نے اہداف کی نشاندہی یا جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی کے ذریعے ایران کی مدد کی تھی یا نہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ تاحال روسی مداخلت کے حوالے سے کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا، تاہم حملوں کی مؤثر نوعیت، بظاہر غیر معمولی درستگی اور ایران کے ساتھ روس کے تکنیکی تعاون نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ ماسکو کسی نہ کسی سطح پر معاون رہا ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی میڈیا ماضی میں بھی ایران کے امریکی اہداف پر حملوں میں روسی معاونت، خصوصاً ہدف بندی سے متعلق رپورٹس شائع کر چکا ہے، تاہم سی آئی اے کی تنصیبات پر حملوں میں روس کے ممکنہ کردار سے متعلق مخصوص تحقیقات کی تفصیلات پہلی مرتبہ سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مارچ میں کم از کم دو مبینہ سی آئی اے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر قائم سی آئی اے اسٹیشن اور دوسرا مشرقی عراق میں واقع مرکز شامل تھا۔ مزید کچھ تنصیبات پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم ان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک مغربی انٹیلی جنس ادارے کی داخلی رپورٹ، جس کا حوالہ خطے کے ایک عہدیدار نے دیا، اس نتیجے پر پہنچی کہ روس نے غالباً خطے میں سی آئی اے کی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں کردار ادا کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دو مغربی حکام کے مطابق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے ایک حملے میں ایران کے شاہد ڈرونز کے جدید ورژن استعمال کیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر روسی معاونت سے بہتر بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق ایک ڈرون نے امریکی سفارت خانے کی بیرونی دیوار میں شگاف ڈالا جبکہ دوسرا اسی راستے سے اندر داخل ہو کر پھٹ گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر روس کی جانب سے اہداف کی نشاندہی یا دیگر براہِ راست معاونت ثابت ہو جاتی ہے تو یہ امریکہ اور روس کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران کے ساتھ جاری تنازع کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں ایران کی جانب سے اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد، جس میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی، ان خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل روسی کردار سے متعلق دعوے برطانوی خبر ایجنسی اور نام ظاہر نہ کرنے والے انٹیلی جنس ذرائع سے منسوب ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور نہ ہی اس خبر میں روس یا ایران کا باضابطہ مؤقف شامل ہے۔



