سندھ میں نہری پانی کی شدید قلت، دھان کی فصل اور رائس ملنگ انڈسٹری بحران کا شکار

ماتلی(رپورٹ: اے۔ایم۔گدی)ماتلی ضلع بدین کا ایک بڑا اور زیریں سندھ کا اہم زرعی شہر ہے، جہاں کی معیشت کا بنیادی دارومدار زراعت پر ہے، تاہم رواں سیزن میں نہری پانی کی شدید قلت، آبپاشی کے ناقص نظام، زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دھان کی فصل کے غیر یقینی مستقبل نے ہزاروں کاشتکاروں کو شدید مالی بحران سے دوچار کردیا ہے، جبکہ اس صورتحال کے اثرات سندھ کی رائس ملنگ انڈسٹری تک پہنچ گئے ہیں، ذرائع کے مطابق بالائی و زیریں سندھ کے مختلف زرعی علاقوں میں تقریباً 60 سے 70 رائس ملز مسلسل خسارے اور شدید مالی مشکلات کے باعث فروخت کے لیے پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ماتلی، بدین، ٹنڈو غلام علی اور زیریں سندھ کے دیگر علاقوں سمیت سندھ کے بالائی زرعی علاقوں میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشت ہونے والی دھان کی فصل رواں سیزن میں پانی کی شدید قلت کے باعث خطرات سے دوچار ہے، دھان کی فصل کو پنیری کی تیاری سے لے کر منتقلی، کاشت اور فصل کی تیاری کے آخری مراحل تک مسلسل اور وافر پانی درکار ہوتا ہے، تاہم نہری پانی کی کمی کے باعث کاشتکاروں کو فصل کی تیاری کے ہر مرحلے پر مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث پیداوار متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری جانب دھان کے ہائبرڈ بیج کی قیمت 1800 سے 2000 روپے فی کلو یا اس سے بھی زائد ہوچکی ہے، جبکہ زرعی ادویات، کھاد، مزدوری، پانی اور دیگر زرعی اخراجات میں مسلسل اضافے نے کاشتکاروں کی کمر توڑ دی ہے۔ بیشتر چھوٹے اور درمیانے درجے کے زمیندار بیج، زرعی ادویات اور کھاد رائس مل مالکان، زرعی ڈیلروں اور دیگر کاروباری افراد سے ادھار پر حاصل کرتے ہیں، تاہم ادھار پر حاصل کیے جانے والے زرعی مداخل کے نرخ نقد خریداری کے مقابلے میں زیادہ ہونے کے باعث فصل کی پیداواری لاگت مزید بڑھ جاتی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیزن میں بھی دھان کی فصل کے مناسب نرخ نہ ملنے کے باعث انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا، 40 کلوگرام دھان کی قیمت تقریباً 2200 سے 2500 روپے فی من کے درمیان رہی، جو بیج، کھاد، زرعی ادویات، پانی، مزدوری اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی تھی، جبکہ رواں سیزن میں پانی کی قلت کے باعث فصل کی پیداوار متاثر ہونے اور مارکیٹ میں مناسب نرخ نہ ملنے کے خدشات نے زمینداروں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دھان کی فصل سے وابستہ رائس ملنگ انڈسٹری بھی گزشتہ دو برس سے شدید مالی بحران کا شکار ہے، رائس مل مالکان کو دھان مہنگے داموں خریدنے، پروسیسنگ، ذخیرہ اور دیگر اخراجات کے باوجود چاول کی برآمدی صورتحال میں بہتری نہ آنے کے باعث مسلسل خسارے کا سامنا ہے، جبکہ بینکوں سے حاصل کیے گئے قرضوں اور ان پر عائد بھاری سود نے کاروباری مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے باعث سندھ کے بالائی و زیریں زرعی علاقوں میں تقریباً 60 سے 70 رائس ملز فروخت کے لیے پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دھان کا بحران اب صرف کاشتکاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس سے وابستہ پوری زرعی و صنعتی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اگر صورتحال برقرار رہی تو دھان کی فصل سے وابستہ کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ رائس ملز میں کام کرنے والے مزدوروں، ٹرانسپورٹرز، زرعی ڈیلرز اور دیگر کاروباری طبقات کا روزگار بھی شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ زرعی و کاروباری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نہری پانی کی منصفانہ اور بروقت فراہمی یقینی بنانے، دھان کی پیداواری لاگت کے مطابق مناسب نرخ مقرر کرنے، بیج، کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے، کاشتکاروں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے اور رائس ملنگ انڈسٹری کو بینک قرضوں اور سود کے بوجھ سے ریلیف دینے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر پانی کی قلت، مہنگی زراعت، کم پیداوار اور غیر منافع بخش نرخوں کا موجودہ بحران سندھ کے زرعی شعبے اور رائس ملنگ انڈسٹری کو مزید سنگین نقصان سے دوچار کرسکتا ہے



