سلامتی کونسل میں پاکستان کی سوڈان میں مظالم کی شدید مذمت، شہریوں پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ

نیویارک(ویب ڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کے دارفور خطے میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں پر حملوں، نسلی بنیادوں پر قتل، جنسی تشدد اور جبری بے دخلی سمیت تمام مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب گل قیصر سروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) فوری طور پر شہریوں پر حملے بند کرے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پابندی یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا کہ دارفور میں آر ایس ایف کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے، نسلی بنیادوں پر قتل، جنسی تشدد، غیر قانونی حراست، جبری بے دخلی اور شہری تنصیبات پر حملے ناقابل قبول ہیں اور ان میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

اس سے قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت خان نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دارفور میں ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن سے مبینہ ذمہ دار افراد کے خلاف شواہد مضبوط ہوئے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اکتوبر 2025 میں طویل محاصرے کے بعد سوڈان کے شہر الفاشر کے سقوط اور اس کے بعد سامنے آنے والے مظالم اس بات کا ثبوت ہیں کہ سزا سے استثنا تشدد کے تسلسل کو فروغ دیتا ہے۔

گل قیصر سروانی نے الجنینہ، الفاشر اور دارفور کے دیگر علاقوں میں ہونے والے جرائم میں ملوث افراد کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف براہ راست ذمہ دار عناصر ہی نہیں بلکہ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا حمایت کرنے والوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے العبید شہر پر آر ایس ایف کے ممکنہ حملے کی اطلاعات پر بھی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کارروائی مزید سنگین بین الاقوامی جرائم کا باعث بن سکتی ہے۔

پاکستانی مندوب نے آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے ساتھ تعاون پر سوڈانی حکومت کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل قومی خودمختاری، سوڈانی قیادت اور تکمیلی انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوڈان کے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا پائیدار اور مؤثر انصاف کے لیے ناگزیر ہے۔

خطاب کے اختتام پر پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں

Back to top button