پاک روس تعلقات: تجارتی اور سفارتی روابط کو عملی اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کا عزم

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور روس نے تجارت، توانائی، زراعت، تعلیم اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مثبت سیاسی ماحول اور باہمی اعتماد کو اب مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ یہ اتفاقِ رائے "Pakistan–Russia: Strengthening Trade, Education & Energy Collaboration” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی ویبینار میں سامنے آیا جس میں دونوں ممالک کے حکومتی عہدیداروں، سفارت کاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت اور توانائی کے شعبوں میں غیر معمولی امکانات موجود ہیں۔ بہتر لاجسٹکس اور اقتصادی روابط کے ذریعے باہمی تجارت کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے اور روس پاکستان کے لیے توانائی اور انفراسٹرکچر کا اہم ترین شراکت دار بن سکتا ہے۔ روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی سفارت خانہ روسی اداروں اور کاروباری برادری کے ساتھ تعاون کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا، جبکہ ویزا مینوئل میں بہتری سے سیاحت اور تجارت کو نئی رفتار ملے گی۔

ویبینار میں روس کے نائب وزیر صنعت و تجارت الیکسی گروزدیف، روسی وزارت خارجہ کے عہدیدار بورس برمیستروف اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے ادائیگیوں کے نظام (Payment System)، لاجسٹکس، سمندری تجارت اور تعلیم کے شعبے میں اساتذہ و طلبہ کے تبادلوں سمیت روسی زبان کے فروغ کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اور دیرپا روابط کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔

مزید خبریں

Back to top button