کیوبا میں ایندھن بحران، چینی الیکٹرک ٹرائی سائیکلز شہریوں کا نیا سہارا بن گئیں

کیوبا (ویب ڈیسک) کیوبا میں طویل ایندھن بحران اور بجلی کی قلت کے باعث چینی ساختہ الیکٹرک تین پہیوں والی گاڑیاں (ٹرائی سائیکلز) شہریوں کی آمدورفت کا اہم ذریعہ بن گئی ہیں، جبکہ کئی مالکان نے انہیں شمسی توانائی سے بھی منسلک کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق کیوبا میں کئی برسوں سے جاری ایندھن کے بحران نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی ملک کی پہچان سمجھی جانے والی کلاسک گاڑیوں کی جگہ اب جدید الیکٹرک ٹرائی سائیکلز نے لینا شروع کر دی ہے۔
یہ چینی ساختہ گاڑیاں اب لاکھوں کیوبن شہریوں کے لیے نہ صرف سفر بلکہ سامان کی ترسیل اور مختصر فاصلے طے کرنے کا بھی بنیادی ذریعہ بن چکی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ متعدد شہریوں نے ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر شمسی پینل نصب کر لیے ہیں، جس کے ذریعے وہ بیٹریاں چارج کر کے بجلی کی طویل بندش کے دوران بھی اپنی گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد جزیرے میں تیل کی فراہمی مزید متاثر ہوئی، جس سے توانائی بحران میں اضافہ ہوا۔
ایندھن اور بجلی کی کمی کے باعث کیوبا میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ، خوراک اور ادویات کی قلت اور سرکاری ٹرانسپورٹ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد الیکٹرک ٹرائی سائیکلز شہریوں کے لیے ایک اہم متبادل بن گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ معاشی اور توانائی بحران کے پیش نظر الیکٹرک ٹرائی سائیکلز مستقبل میں بھی کیوبا کے ٹرانسپورٹ نظام کا اہم حصہ رہیں گی۔



