آبنائے ہرمز کا تنازع: عمان نے دو بحری راستوں کی تجویز دے دی، ایران کے تحفظات برقرار

مسقط (ویب ڈیسک) عمان نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز میں دو الگ الگ بحری راستے قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی، تاہم ایران نے اس تجویز پر اپنے تحفظات برقرار رکھے ہیں۔

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں عمان نے تجویز دی کہ آبنائے ہرمز میں دو علیحدہ بحری راستے قائم کیے جائیں، جن میں ایک ایران کی علاقائی سمندری حدود اور دوسرا عمان کی سمندری حدود سے گزرے، جبکہ دونوں راستوں کا انتظام الگ الگ ہو۔

رپورٹس کے مطابق ماضی کے مذاکرات میں بھی ایران نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے لیے مشترکہ انتظامی نظام قائم کیا جائے، جس میں ایران اور عمان دونوں شامل ہوں۔

ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر دو الگ انتظامی نظام قائم کیے گئے تو زیادہ تر عالمی بحری جہاز عمانی سمندری حدود سے گزرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس سے ایران اس اہم تزویراتی آبی گزرگاہ پر اپنا اثر و رسوخ کم ہونے کا خدشہ محسوس کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز اور فارمولوں پر غور کیا گیا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے یا اتفاق رائے تک پہنچے ہیں یا نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button