ایران کے کویت، بحرین، امارات، اردن، قطر اور عمان میں امریکی اہداف پر حملے

تہران، دوحہ(ویب ڈیسک) امریکا کے تازہ حملوں کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور عمان میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں موجود مشتبہ فضائی اہداف کا دفاعی نظام کے ذریعے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں کویتی فوج نے کہا کہ دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کے دوران پیدا ہو رہی ہیں، شہریوں کو حکام کی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عمان کی دقم بندرگاہ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے استعمال ہونے والے لاجسٹک سپورٹ مراکز اور ایندھن فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز پر اچانک اور بھاری حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تنصیبات تباہ ہو گئیں۔
آئی آر جی سی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک دوسرے ’’جارح جہاز‘‘ کو بھی نشانہ بنا کر روک دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی مبینہ کارروائیاں جاری رہیں تو جواب مزید سخت ہوگا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ قطر میں واقع العدید ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں جنگی طیاروں کے مرمت و دیکھ بھال مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم قطر کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ قطری فضائی دفاعی نظام نے میزائل حملے کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔
ایرانی فوج نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی متعدد لہریں بھیجی گئیں۔ ایرانی بیان کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام، اسلحہ ڈپو اور ریڈار سائٹس جبکہ بحرین میں مواصلاتی نظام اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں اور وہاں مقیم افراد سے پرسکون رہنے اور فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ کے مطابق فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل خطرے سے نمٹنے میں مصروف ہے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنوبی ایران میں امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر پاسداران انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد کیا گیا۔
ادھر ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق بندر عباس، سیرک اور چابہار سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی صوبہ بوشہر میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جہاں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جنوبی صوبہ ہرمزگان کے بندرگاہی شہر جاسک میں بھی 10 سے زائد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔



