بدین میں احتجاج سے قبل جیئے سندھ محاذ کے رہنما نواز شاہ بھاڈائی گرفتار،عوامی دباؤپر رہا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن / جانو/ ڈاٹ /پی کے)جیئے سندھ محاذ کے مرکزی وائس چیئرمین نواز شاہ بھاڈائی کو بدین پولیس نے بدین میں پانی کی قلت اور سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے سے روک کر گرفتار کر لیا اور انہیں ماڈل تھانہ بدین میں حراست میں رکھا اطلاعات کے مطابق بدین پولیس نے صبح سویرے ہی پریس کلب کے اطراف میں بھاری نفری تعینات کر دی جبکہ شہر کے داخلی راستوں پر بھی ناکہ بندی کر دی گئی۔ اس کے باوجود جیئے سندھ محاذ کے سینکڑوں کارکن پریس کلب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور پولیس کی کارروائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی بعد ازاں کارکنوں کی بڑی تعداد ماڈل تھانہ بدین کے سامنے جمع ہو گئی جہاں نواز شاہ بھاڈائی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج اور شدید نعرے بازی کی گئی۔ بعد ازاں شام تقریباً چار بجے بدین پولیس نے نواز شاہ بھاڈائی کو رہا کر دیا
تھانے سے باہر آتے ہی سینکڑوں کارکنوں نے انہیں اجرک پہنائی، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور سندھ دشمن منصوبوں کے خلاف نعرے بازی کی اس موقع پر نواز شاہ بھاڈائی نے کہا کہ حکومت نے پرامن احتجاج کو روک کر آمریت کی یاد تازہ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں اور مقدمات سندھ کے عوام کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے نہیں روک سکتے۔ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کے رہنما شاہنواز سیال راجہ خواجہ بھی موجود تھے
دوسری جانب سندھ دوست اتحاد کے چیئرمین ڈاکٹر عزیز میمن نے نواز شاہ بھاڈائی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت اور سندھ کے وسائل کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنا اور سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا انتہائی افسوسناک اقدام ہے



