بلڈرز ایسوسی ایشن کا دوبارہ نسلہ ٹاؤر تعمیر کرنے کا اعلان

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) نے آئینی عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زمین خرید کر دوبارہ نسلہ ٹاؤر تعمیر کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے مشہورِ زمانہ نسلہ ٹاور کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا۔
اس تاریخی اور غیر معمولی عدالتی پیش رفت کے بعد سندھ حکومت، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) اور متاثرہ الاٹیز نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے اور متاثرین کے نقصانات کے فوری و مکمل ازالے سمیت تعمیراتی شعبے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
نسلہ ٹاور کا معاملہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے تحت کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم کے دوران سامنے آیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع نسلہ ٹاور کا اصل پلاٹ 780 مربع گز پر مشتمل تھا، تاہم مختلف ادوار میں لیز، ذیلی تقسیم اور ریکارڈ میں تبدیلیوں کے بعد اس کا رقبہ 1121 مربع گز تک پہنچ گیا۔
سرکاری اداروں کا دعویٰ تھا کہ اضافی 341 مربع گز رقبہ سرکاری اراضی اور شاہراہ کی حدود میں شامل ہے، جس پر طویل قانونی تنازع کھڑا رہا۔ اس پورے معاملے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، محکمہ ریونیو اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کردار بھی عدالتی جانچ پڑتال کا حصہ رہا اور ان اداروں کی جانب سے جاری کردہ منظوریوں پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔
بعد ازاں 25 اکتوبر 2021 کو اُس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسمار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
عدالت نے تعمیر کنندہ (بلڈر) اور رہائشیوں کی جانب سے دائر تمام نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ متاثرہ الاٹیز کو معاوضہ ادا کرے اور یہ رقم بعد میں تعمیر کنندہ اور ذمہ دار سرکاری افسران سے وصول کی جائے۔
اس حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے نومبر 2021 سے جنوری 2022 کے دوران پندرہ منزلہ عمارت کو مرحلہ وار اور جدید تکنیک کے ذریعے مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 45 خاندان اپنے گھروں اور عمر بھر کی جمع پونجی سے چند دنوں میں محروم ہوگئے تھے۔



