بلوچستان میں ملک دشمن عناصرکا نیٹ ورک تباہ کرنے کی پکی تیاریاں: اختر مینگل کے بغیر دستخط چیک کا چرچا!

کوئٹہ: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) بلوچستان میں گزشتہ چار روز کے دوران ہونے والے خوفناک اور بزدلانہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد اب ریاست نے فتنہ الخوارج اور ملک دشمن عناصر کے خلاف ونس فار آل (آخری و فیصلہ کن) بڑے فوجی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان اور عسکری قیادت کے درمیان کوئٹہ میں ہونے والے انتہائی اہم اور سنجیدہ اجلاس میں یہ حتمی فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے اشاروں پر بندوق اٹھانے والے انسرجنٹس اور پہاڑوں میں مورچہ بند دہشت گردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا اور انٹیلیجنس بیسڈ سرچ آپریشنز کے ذریعے انہیں کھینچ کر نیچے لایا جائے گا۔ دوسری جانب، سردار اختر مینگل کی ایک انوکھی چالاکی بھی پکڑی گئی ہے، جنہوں نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے بعد پارلیمانی مراعات اور تنخواہوں کی مد میں 78 لاکھ 92 ہزار روپے کا چیک تو قومی اسمبلی کو بھجوایا، مگر اس پر دستخط (سائن) ہی نہیں کیے۔ جب یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو انہوں نے یہ لیم ایکسکیوز (کمزور بہانہ) پیش کیا کہ انہوں نے بینک کو الگ سے خط لکھا ہے اور چیک پر دستخط اس لیے نہیں کیے تاکہ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی ان کے دستخط چوری نہ کر لے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان کے یہ بڑے سیاستدان اسلام آباد میں بیٹھ کر تو بڑی باتیں کرتے ہیں مگر وہ عوام کی اصل لڑائی ان کے اپنے علاقوں میں جا کر نہیں لڑ رہے۔ اس بلاگ کے شروع میں ناصر حسین شاہ، بلاول بھٹو اور مریم اورنگزیب کی ویٹ لوزنگ انجیکشنز کی کہانی اور ناصر حسین شاہ کی اچانک طبعیت خراب ہونے کی دلچسپ تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس سنسنی خیز وی لاگ کو مکمل دیکھنے اور مزید حقائق جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے گوہر بٹ کا وی لاگ ضرور دیکھیں۔




