مذاکرات کا وقت ختم، اب صرف ایکشن ہوگا: چاغی اور زیارت میں بڑی سازش بے نقاب!

کوئٹہ: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں گزشتہ چار دنوں میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور معصوم شہریوں سمیت 42 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شہید ہو چکے ہیں جبکہ جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد بھی جہنم واصل ہوئے۔ اس سنگین اور مخدوش ترین صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ میں ایک ہنگامی اور انتہائی اہم ایپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیر اعظم پاکستان نے کی۔ اجلاس میں آرمی چیف سمیت ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی۔ وزیر اعظم نے سخت ترین لہجے میں واضح کیا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی عزت دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی اور فتنہ الخوارج کے ملک دشمن عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے ریاست اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔ انتہائی تشویشناک اطلاعات کے مطابق چاغی سمیت کئی حساس علاقوں میں کالعدم تنظیم بی ایل اے نے ریاستی املاک کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کی ہیں، جبکہ زیارت کے مقام پر بہادری سے لڑنے والے پولیس اہلکاروں کے پاس اسلحے کی مبینہ کمی نے بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس مصلت شدہ جنگ کا مقصد بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو روکنا ہے، جس کی واضح مثال کوئٹہ کو پانی فراہم کرنے والے منگی ڈیم پر بزدلانہ حملہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کی نام نہاد محرومیوں کا چورن بیچنے والے عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی برتے بغیر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، کیونکہ اب مزید مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے اور پاکستان کی بقا کے لیے بندوق اٹھانے والے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس سنسنی خیز وی لاگ کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے سید عمران شفقت کا مکمل وی لاگ دیکھیں۔




