بدین کے حصے کاپانی بااثر افراد کے قبضے میں،سیڈانےبے بسی کااعتراف کرلیا
روزانہ 2500 کیوسک پانی چوری،بدین کے آبادگاروں کاشدید احتجاج

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)بدین کے زرعی علاقوں کے لیے مختص پانی بااثر افراد کے قبضے میں، سیڈا انتظامیہ نے عملاً بے بسی کا اظہار کر دیا روزانہ تقریباً 2500 کیوسک پانی کی چوری کے معاملے پر سیڈا کے منیجنگ ڈائریکٹر منصور میمن نے اعتراف کیا کہ وہ طاقتورعناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتےحیدرآباد میں سیڈا کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اہم اجلاس میں بدین سے منتخب سندھ اسمبلی کے ارکان تاج محمد ملاح اور ارباب امان اللہ سیڈا کے چیئرمین قبول کھٹیان لیفٹ بینک ایریا واٹر بورڈ کے چیئرمین حاجی سائیں بخش جمالی پیپلز پارٹی کے رہنما حاجی شیر جمالی ٹیل آبادگار فورم کے رہنما رضا محمد شاہ عبدالشکور میمن حفیظ میمن ضلع کونسل کے رکن لطیف بروہی سمیت متعدد آبادگار اور متعلقہ افسران شریک ہوئے اجلاس میں فلڈ کینال مراد واہ ماتلی برانچ (پیر واہ) اور امام واہ جنوبی کے ذریعے بدین کے حصے کا پانی غیر قانونی طور پر فلڈ کینالوں میں منتقل کیے جانے پر شدید احتجاج کیا گیا اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر سیڈا منصور میمن نے کہا کہ پانی چوری میں ملوث افراد بااثر ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی کرنا ان کے اختیار سے باہر ہے تاہم اکرم واہ پر پانی چوری روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے ٹیل آبادگار فورم کے رہنماؤں رضا محمد شاه عبدالشکور میمن حفیظ میمن و دیگر نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت دھان کی فصل کی کاشت جاری ہے مگر جان بوجھ کر پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے جس کے باعث دھان کی نرسریاں سوکھ رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ محکمہ آبپاشی کے بعض اہلکار بااثر افراد سے ملی بھگت کرکے فلڈ کینالوں میں پانی چھوڑ رہے ہیں جس کے نتیجے میں بدین ٹنڈو باگو تلہار اور گولاڑچی تحصیلوں کے آبادگاروں کے قانونی حصے کا پانی چھینا جا رہا ہے آبادگار رہنماؤں نے کہا کہ مسلسل پانی کی قلت کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہوتی جا رہی ہے کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور کسانوں کو کروڑوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ متعلقہ ادارے عملی اقدامات کے بجائے صرف دعووں تک محدود ہیں اجلاس میں موجود آبادگار رہنماؤں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری ادارے کا سربراہ خود یہ اعتراف کرے کہ وہ بااثر پانی چوروں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا تو یہ صرف سیڈا ہی نہیں بلکہ پورے حکومتی اور انتظامی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی چوری میں ملوث بااثر افراد ان کے سہولت کار سرکاری اہلکاروں اور دیگر ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے ٹیل آبادگار فورم نے خبردار کیا کہ اگر فلڈ کینالوں کے ذریعے پانی کی منتقلی فوری طور پر بند کرکے بدین ضلع کو اس کے قانونی حصے کا پانی فراہم نہ کیا گیا تو بدین کے چاروں تحصیلوں کے آبادگار بھرپور احتجاجی تحریک شروع کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری سیڈا محکمہ آبپاشی اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔



