آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتحال سے عبوری جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی، ایران کا انتباہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث عبوری معاہدہ غیر مؤثر ہو رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے حالیہ اقدامات، جن میں ایران کے تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی اور نئے فوجی حملے شامل ہیں، جنگ بندی کے بعض حصوں کو ’’غیر مؤثر‘‘ بنا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے جبکہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے انتظامات میں مداخلت عبوری جنگ بندی کو ناقابل عمل بنا رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کے ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملے کا الزام ایران پر عائد کیے جانے کے بعد تہران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حیران کن قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button