ایرانی ریال پر شدید دباؤ، ڈالر کے مقابلے میں قدر مزید کمزور، ماہرین نے محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا

تہران(ویب ڈیسک) ایرانی کرنسی ریال کو حالیہ عرصے میں شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر مسلسل کمزور سطح پر برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی پابندیوں، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ریال کی قدر میں روزانہ کی بنیاد پر نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ مارکیٹ رجحانات کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار سے 17 لاکھ 56 ہزار 500 ایرانی ریال کے درمیان خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی پر جاری دباؤ معیشت کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور کرنسی کاروبار سے وابستہ افراد کو فیصلے کرتے وقت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں، بلند افراطِ زر، عالمی تجارت میں مشکلات، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور خطے کی کشیدہ صورتحال ایرانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اوپن مارکیٹ ریٹ عام لین دین اور تجارت کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں مالی معاملات اسی شرح کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔
پاکستانی روپے کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال کی قدر انتہائی کم سطح پر موجود ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق ایک ایرانی ریال تقریباً 0.00020 پاکستانی روپے کے برابر ہے، جبکہ ایک پاکستانی روپے کے عوض ہزاروں ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی خرید و فروخت تقریباً 7 ہزار 500 سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان جاری ہے۔
بعض سرمایہ کار مستقبل میں ایرانی ریال کی قدر میں بہتری کی امید پر اس میں دلچسپی لے رہے ہیں، تاہم ماہرین اقتصادیات اسے زیادہ خطرے والی سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان کرنسی تبادلے یا مالی معاملات سے قبل تازہ ترین اوپن مارکیٹ ریٹس کی تصدیق ضروری ہے، جبکہ لین دین کے لیے مستند ذرائع اور لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔



