ڈسٹرکٹ جیل بدین میں ماتلی تعلقہ کے رہائشی قیدی حسین پراسرارطورپرجاں بحق

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ڈسٹرکٹ جیل بدین میں ماتلی تعلقہ کے رہائشی قیدی حسین ولد سلیمان کچھی پراسرار حالات میں جاں بحق ہوگئے۔ قیدی کی لاش جیل سے خفیہ طور پر انڈس اسپتال بدین منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد واقعے نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے جیل انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری مؤقف کے مطابق متوفی قیدی کے خلاف ماتلی تھانے میں مقدمہ نمبر 160/2026 درج تھا انہیں 4 جون کو سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ-II ماتلی نے جوڈیشل ریمانڈ پر ڈسٹرکٹ جیل بدین بھیجا تھا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز قیدی جیل کے باورچی خانے سے ملحقہ بیرک کے واش روم میں گیا، جہاں اس نے مبینہ طور پر پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا دوسری جانب سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل بدین کا انتظام طویل عرصے سے ایک سپاہی اور ہیڈ کلرک کے سپرد ہونے کے باعث جیل قیدیوں کے لیے اذیت گاہ بن چکی ہے ان کا کہنا ہے کہ جیل میں آنے والے قیدیوں سے مشقت نہ لینے، اہل خانہ سے ملاقات کرانے اور دیگر سہولیات کے نام پر روزانہ ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ قیدیوں کو غیر معیاری خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ الزام یہ بھی ہے کہ جو قیدی رقم ادا نہیں کرتے، انہیں مختلف جسمانی اور ذہنی ہتھکنڈوں کے ذریعے تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ قیدیوں کی خوراک کے لیے مختص بجٹ بھی صرف کاغذوں میں خرچ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیدی حسین کچھی کی ہلاکت کی شفاف، غیر جانبدار اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدسلوکی ثابت ہو تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔



