عالمی ثقافتی ورثے کے ساز "بوڑینڈو” کا خالق بیماری اور غربت کے رحم و کرم پر

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)گردوں کے عارضے میں مبتلا معروف ہنرمند الہجڑیو کمہارمالی تنگدستی کے باعث علاج سے محروم، حکومت اور محکمہ ثقافت سے فوری امداد کی اپیل تفصیل کے مطابق صوبہ سندھ کے تاریخی گاؤں کاڑک (شادی لارج ضلع بدین) سے تعلق رکھنے والے معروف لوک ہنرمند الہجڑیو کمبھار، جو موئن جو دڑو سے منسوب قدیم مٹی کے ساز بوڑینڈو کی تیاری میں عالمی شہرت رکھتے ہیں، گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر بسترِ علالت پر ہیں۔ شدید مالی مشکلات کے باعث وہ مناسب علاج سے محروم ہیں اور امداد کے منتظر ہیں الہجڑیو کمبھار نے برسوں تک مٹی کے برتن اور بوڑینڈو تیار کرکے سندھ کی صدیوں پرانی ثقافت کو نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی متعارف کرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے علیل ہیں، مقامی سطح پر اپنی استطاعت کے مطابق علاج کراتے رہے، تاہم ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر کراچی جا کر علاج کرانے کی ہدایت کی ہے، لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں واضح رہے کہ قدیم ساز بوڑینڈو کو حال ہی میں عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل کیا گیا ہے، مگر اس نایاب فن کو زندہ رکھنے والا ہنرمند آج خود بیماری، غربت اور بے بسی کا شکار ہےالہجڑیو کمبھار نے حکومتِ سندھ، محکمہ ثقافت، ثقافتی اداروں اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ ان کے علاج اور مالی معاونت کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ وہ صحت یاب ہو کر سندھ کے اس نادر ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اپنا سفر جاری رکھ سکیں



