ایلوکیشن سے زائد پانی کے باوجود کوٹری بیراج کے ٹیلیں خشک، نہری نظام میں سنگین بے ضابطگیوں پر سوالات

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ایلوکیشن سے زائد پانی کے باوجود کوٹری بیراج کے ٹیلیں خشک، نہری نظام میں سنگین بے ضابطگیوں پر سوالات۔سندھ میں حریف سیزن کے دوران کوٹری بیراج سے نکلنے والی چاروں نہروں میں مقررہ ایلوکیشن سے زائد پانی دستیاب ہونے کے باوجود ٹیل کے علاقوں کے ہزاروں آبادگار پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں، جس کے باعث نہری نظام میں پانی کی تقسیم، نگرانی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ آبادگاروں، زرعی ماہرین اور کاشتکار تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے پورے نظام کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بیراج سے وافر مقدار میں چھوڑا جانے والا پانی آخر ٹیل تک کیوں نہیں پہنچ رہا۔اعدادوشمارکے مطابق ہفتہ 4 جولائی کو کوٹری بیراج کے اپ اسٹریم پر پانی کی آمد 43 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کی گئی، جبکہ ڈاؤن اسٹریم کوٹری پر پانی کا اخراج صفر کیوسک رہا، جس کے باعث دستیاب تمام پانی کوٹری بیراج کی چاروں نہروں میں چھوڑا گیا۔ محکمہ آبپاشی کے شیڈول کے مطابق اس وقت نہروں میں خریف ایلوکیشن سے زیادہ پانی موجود ہے، تاہم اس کے باوجود بدین، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور دیگر ٹیل کے علاقوں میں واقع شاخوں، مائنرز اور واٹر کورسز کے آبادگار پانی نہ ملنے پر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ چند سال قبل انہی نہروں میں تقریباً 37 ہزار کیوسک پانی کے بہاؤ کے دوران نہری نظام کے آخری سروں تک بھی پانی باآسانی پہنچ جاتا تھا، لیکن اب 43 ہزار کیوسک سے زائد پانی دستیاب ہونے کے باوجود ٹیل کے بیشتر علاقے خشک ہیں۔ ان کے مطابق اگر بیراج سے پانی کی فراہمی ریکارڈ کے مطابق ہو رہی ہے تو پھر یہ جانچنا ضروری ہے کہ آیا نہروں کے بالائی حصوں میں غیر قانونی اوور ڈرا، غیر مجاز کٹ، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم یا دیگر انتظامی بے ضابطگیاں تو اس صورتحال کا سبب نہیں بن رہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جولائی خریف فصلوں خصوصاً دھان، کپاس، گنا، مرچ اور چارہ جات کے لیے انتہائی اہم مہینہ ہے اور اس مرحلے پر پانی کی عدم دستیابی سے نہ صرف پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ زرعی معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین نے نہری نظام کی جدید مانیٹرنگ، ٹیلی میٹری نظام کی مؤثر فعالیت، نہروں کی روزانہ نگرانی اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ کاشتکار تنظیموں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر آبپاشی اور سیکریٹری آبپاشی سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں شکایات سیل قائم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبائی وزراء اور اعلیٰ افسران کی روزانہ کی بنیاد پر سندھ کے تینوں بیراجوں پر مانیٹرنگ ڈیوٹیاں مقرر کی جائیں، ٹیل کے آبادگاروں کی ہر شکایت پر فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ایلوکیشن سے زائد دستیاب پانی کا حقیقی فائدہ نہروں کے آخری سرے پر موجود آبادگاروں تک بھی پہنچے

مزید خبریں

Back to top button