لاہور ڈیفنس مبینہ اغوا و جنسی استحصال کیس، فرانزک شواہد پر تفتیش کا دائرہ وسیع، مزید اہم انکشافات

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور جنسی استحصال کے مقدمے میں پولیس نے فرانزک شواہد کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جبکہ ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک واپس جانے والی دونوں غیر ملکی خواتین کو ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی تفتیش میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر تحقیقات کے کسی مرحلے پر ان کی پاکستان میں موجودگی ضروری ہوئی تو متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کرکے انہیں دوبارہ پاکستان بلانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے اہم شواہد کے حصول کے لیے دونوں خواتین سے ان کے موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے طلب کیے، تاہم دونوں نے اپنے موبائل فون فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

پولیس نے مقدمے میں گرفتار ملزمان کے موبائل فون تحویل میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ ادارے کو ارسال کر دیے ہیں تاکہ ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش ہر زاویے سے جاری ہے اور فرانزک رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔

دوسری جانب گزشتہ روز پولیس نے اس مقدمے میں مزید چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جن میں خود کو "باس” کہلوانے والا ملزم بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتاری کے دوران مذکورہ ملزم فرار کی کوشش میں چھت سے چھلانگ لگانے کے باعث زخمی ہو گیا، جبکہ اس کیس میں گرفتار ملزمان کی مجموعی تعداد آٹھ ہو چکی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button