"متحد اور مضبوط سندھ” کے عنوان سے 25ویں روز بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی

میرپورخاص(رپورٹ:شاھدمیمن)سندھ میں پانی کی قلت،دریائے سندھ پر متنازع منصوبوں، کرپشن، سندھ کی تقسیم کی مبینہ سازش، اجالا پروین اور پریا کماری کے اغوا سمیت مختلف مسائل کے خلاف سندھیانی تحریک اور قومی عوامی تحریک کے زیر اہتمام "متحد اور مضبوط سندھ” کے عنوان سے 25ویں روز بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
ریلی شملا بیکری سے پریس کلب تک پیدل مارچ کی صورت میں نکالی گئی، جس کی قیادت مرکزی جنرل سیکریٹری نصرت خاصخیلی، کلثوم کلوئی، جمیلہ لغاری، شاہدہ کلوئی، انعم بگھیو، مقصود بھرگڑی، کامریڈ کرڑ ریباری، انور نوحانی اور دیگر رہنماؤں نے کی۔
پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سندھ میں پانی کی قلت، بدامنی، کرپشن، خواتین اور اقلیتوں کے تحفظ، زرعی بحران اور دیگر عوامی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اجالا پروین اور پریا کماری کی فوری بازیابی، ڈاکٹر فہمیدہ لغاری قتل کیس میں انصاف اور کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل و جبری شادیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے، دریائے سندھ پر نئے ڈیم اور نہری منصوبے مسترد کیے جائیں، جبکہ کارپوریٹ فارمنگ اور گرین پاکستان منصوبوں پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی پالیسیاں زراعت دشمن ہیں، جس کے باعث کسان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں بند تعلیمی ادارے فعال کیے جائیں، میرٹ کی بحالی یقینی بنائی جائے، کسانوں کو آسان اقساط پر ٹریکٹر اور زرعی آلات فراہم کیے جائیں، جبکہ آئندہ تین برس تک کھاد، بیج اور زرعی ادویات مفت فراہم کی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button