سوات کشتی سانحہ، حکومت کا بڑا ایکشن، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم، 7 روز میں رپورٹ طلب

سوات(جانوڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا حکومت نے سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی، جو حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر سات روز میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
حکومت خیبرپختونخوا کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کو انکوائری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سپیشل سیکرٹری فنانس زبیر احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی کو حادثے کی وجوہات، متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں اور ممکنہ غفلت کا تفصیلی جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ کمیٹی ضرورت پڑنے پر ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے گی اور متعلقہ اداروں سے ریکارڈ بھی طلب کر سکے گی۔
یاد رہے کہ سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کا شکار کشتی میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے سات افراد سوار تھے۔ ریسکیو ٹیمیں اب تک چھ افراد کی لاشیں نکال چکی ہیں، جبکہ 17 سالہ ایک لڑکی تاحال لاپتہ ہے، جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔
حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔



