چودہ جنازے، چند لاکھ کا چیک اور ریاستی بے حسی:کاش مریم نواز جیسنڈرا سے ہی کچھ سیکھ لیتیں

تحریر: نور اللہ
کسی سیانے کا قول ہے کہ جب کسی معاشرے میں معصوم بچوں کی موت پر بھی زندگی معمول کے مطابق چلنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ معاشرہ اخلاقی طور پر بانجھ ہو چکا ہے۔ لاہور میں ایک خستہ حال عمارت کے گرنے سے چودہ معصوم بچوں کی اچانک موت کوئی پہلا حادثہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ آخری ستم ہوگا۔ یہ بچے کسی جنگ کا شکار نہیں ہوئے، نہ ہی یہاں کوئی بھیانک زلزلہ آیا تھا اور نہ ہی یہ قدرت کی طرف سے نازل ہونے والی کوئی ناگہانی آفت تھی، بلکہ یہ خالصتاً اس انتظامی غفلت، مجرمانہ لاپروائی اور ریاستی بے حسی کا نتیجہ ہے جو ہمارے پورے نظام کی رگوں میں زہر بن کر سرایت کر چکی ہے۔ وہ بچے جو ہنستے کھیلتے، اپنے کندھوں پر خوابوں سے بھرے بستے اٹھائے ایک اکیڈمی میں پڑھنے گئے تھے، انہیں کیا معلوم تھا کہ جس چھت کے نیچے وہ اپنے مستقبل کی عمارت کھڑی کرنے جا رہے ہیں، وہی چھت ان کی قبر بن جائے گی۔
حسبِ روایت، حکومت نے چند لاکھ روپے فی بچہ امداد کا اعلان کر کے اپنی ذمہ داری سے پلو جھاڑ لیا ہے۔ کیا چند لاکھ روپے ان ماؤں کی گودیں ہری کر سکتے ہیں جن کے جگر گوشے اس ملبے تلے ہمیشہ کے لیے سو گئے؟ کیا کوئی رقم اس بوڑھے باپ کے آنسوؤں کا نعم البدل ہو سکتی ہے جس نے اپنے کندھے پر اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھایا؟ ہمارے ہاں انسانی جان، اور بالخصوص غریب کی جان اتنی سستی ہو چکی ہے کہ چند لاکھ کا چیک دے کر حکمران یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے انصاف کا حق ادا کر دیا۔ دو روز گزریں گے، یہ سرخی پرانی ہو جائے گی، ٹی وی چینلز پر کسی سیاسی دنگل یا نئی آڈیو ویڈیو لیک کا شور مچ جائے گا اور ان چودہ گھروں کے چراغوں کی لرزتی ہوئی لو اندھیروں میں گم ہو جائے گی۔
یہ المیہ صرف لاہور کا نہیں ہے۔ کبھی سندھ میں کسی اسکول کی بوسیدہ دیوار گرنے سے تین بچے ملبے تلے دب جاتے ہیں، تو کبھی جنوبی پنجاب کے کسی پسماندہ ضلع میں اسکول کی چھت کلاس روم میں بیٹھے بچوں پر آ گرتی ہے۔ جب بھی ایسا کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے، اعلیٰ حکام کی طرف سے بیانات کا ایک سیلاب آ جاتا ہے۔ افسران کو معطل کرنے کی دوڑیں لگ جاتی ہیں، تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی جاتی ہیں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن جیسے ہی عوام کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے، سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اگر ماضی کے سانحات کے ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جاتا، اگر بلدیات، محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے ان افسران کا گریبان پکڑا جاتا جن کی ناک کے نیچے یہ غیر قانونی اور خستہ حال اکیڈمیاں چل رہی ہیں، تو آج لاہور کی کسی گلی میں ایک ساتھ اتنے جنازے نہ اٹھتے۔
ہم ایک ایسے تضاد کا شکار ملک میں رہ رہے ہیں جہاں اشرافیہ کی تسکین اور سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے شاہی قلعے، بادشاہی مسجد اور شالامار باغ کی تزئین و آرائش پر تو اربوں روپے پانی کی طرح بہا دیے جاتے ہیں، لیکن جہاں غریب کا بچہ بیٹھ کر پڑھتا ہے، ان سرکاری اسکولوں کی حالت دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ آج سرکاری تعلیمی اداروں کو یہ کہہ کر ٹھیکے پر دیا جا رہا ہے کہ ریاست انہیں چلانے کی اہل نہیں ہے۔ جب ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرے گی، تو غریب والدین مجبوراً اپنے بچوں کو چند سو روپے کے عوض ان تنگ، تاریک اور خستہ حال نجی تعلیمی مراکز میں بھیجیں گے جہاں تحفظ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہوتی۔ آئینِ پاکستان نے ہر شہری کو تحفظ، تعلیم اور صحت کے بنیادی حقوق دیے ہیں اور ان حقوق کی پاسداری کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن یہاں تو آئین کے ان بنیادی حقوق کی روزانہ پامالی ہوتی ہے۔
جب ہم دنیا کے دیگر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں، تو قیادت کا ایک بالکل مختلف معیار نظر آتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں جب کرائسٹ چرچ کا ایک دلخراش واقعہ ہوا تھا، تو وہاں کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے پروٹوکول کی پروا کیے بغیر، سیاہ لباس پہن کر سوگوار خاندانوں کے گھروں کا چکر لگایا، انہیں گلے سے لگایا اور ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہوئیں۔ ان کا وہ ہمدردانہ رویہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا۔ اس کے برعکس، ہمارے ہاں اتنے بڑے سانحات ہو جاتے ہیں، پورا پورا محلہ اکھٹے جنازے اٹھاتا ہے، لیکن ہماری اعلیٰ ترین قیادت کے پاس اتنی مہلت نہیں ہوتی کہ وہ ان غریبوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھ سکیں۔ کیا ہماری قیادت کے پاس ان معصوموں کے گھروں تک جانے کے لیے وقت نہیں ہے یا پھر سیکیورٹی کے نام نہاد مسائل آڑے آ جاتے ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ ہمارا پورا نظام سڑ چکا ہے۔ یہاں اس شخص کو تو فوراً پکڑ لیا جائے گا جو ریڑھی لگاتا ہے یا جس کا وہ خستہ حال مکان تھا، لیکن ان اصل مجرموں کو کبھی نہیں پکڑا جائے گا جن کا کام ان عمارتوں کی جانچ پڑتال کرنا اور ایسے حادثات کو روکنا تھا۔ ہم لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ روزانہ گھر سے نکلتے ہیں اور کسی حادثے کا شکار ہوئے بغیر واپس لوٹ آتے ہیں، کیونکہ ہمارا سسٹم ہمیں کوئی تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ریاست جو ماں جیسی ہونی چاہیے تھی، اب ایک بے حس تماشائی بن چکی ہے۔ جب تک ہم انسانی جان کی قیمت کو نہیں پہچانیں گے اور جب تک عہدیداروں کو ان کی غفلت پر سخت ترین سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک ایسے سانحے ہوتے رہیں گے اور ہم یونہی چند دن ماتم کرنے کے بعد اگلے حادثے کا انتظار کرتے رہیں گے۔



