برازیل میں طالبان رجیم کے خلاف بڑا احتجاج، برسلز دورے اور پالیسیوں پر شدید ردعمل

ساؤ پاؤلو(مانیٹرنگ ڈیسک)برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں افغان طالبان کی پالیسیوں اور ان کے برسلز دورے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں افغان مہاجرین اور مختلف مقامی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق یہ مظاہرہ انسانی حقوق کی تنظیم وائس آف وومن کی جانب سے منعقد کیا گیا، جہاں مظاہرین نے افغان خواتین کے لیے تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے طالبان کے خلاف نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے پرتگالی زبان میں درج بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر "طالبان کو تسلیم نہ کریں” اور "افغان خواتین کا ساتھ دیں” جیسے نعرے درج تھے۔ شرکاء کا مؤقف تھا کہ طالبان کو یورپی پارلیمنٹ میں مدعو کرنا افغان عوام اور انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔
احتجاج کے دوران عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ طالبان کو دہشت گرد گروہ قرار دیا جائے اور ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تناظر میں مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
رپورٹ میں عالمی ماہرین کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کے ساتھ تکنیکی یا سفارتی روابط کو بعض حلقے عالمی قبولیت کی جانب ایک قدم سمجھتے ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے انتہا پسند نظریات کو تقویت مل سکتی ہے۔ دوسری جانب اس معاملے پر عالمی سطح پر مختلف آراء بھی موجود ہیں۔



