جعلی پے آرڈر اور پولیس سرپرستی کے الزامات، سندھ ہائیکورٹ کا آئی جی سندھ سمیت متعلقہ حکام سے جواب طلب

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)سندھ ہائیکورٹ نے جعلسازوں کی مبینہ سرپرستی، درخواست گزار کو ہراساں کرنے اور غیر جانبدار تحقیقات نہ ہونے سے متعلق درخواست پر آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن، ایس ایس پی کورنگی، انویسٹی گیشن آفیسر عباد حیدر، کامران آفتاب اور عباس بٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ساجد معروف نے کامران آفتاب کو تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کا کیمیکل مواد فراہم کیا، جس کے عوض کامران آفتاب نے عباس بٹ کے ذریعے 90 لاکھ روپے کا پے آرڈر دیا، جو بعد ازاں مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوا۔ اس معاملے پر زمان ٹاؤن تھانے میں مقدمہ بھی درج ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ پولیس افسران ملزمان کی معاونت کر رہے ہیں اور کیس کے شواہد مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

درخواست گزار کی وکیل بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش کسی غیر جانبدار افسر کے سپرد کرنے کے بجائے درخواست گزار کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو فوری سکیورٹی فراہم کی جائے اور کیس کی شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button