لاہور ٹیوشن سینٹر سانحہ، 14 معصوم بچوں کی تدفین، مقدمہ درج، مکان مالک سمیت 5 افراد حراست میں

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے 14 معصوم بچوں کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپردِ خاک کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے غفلت اور لاپرواہی کے الزام میں مقدمہ درج کرکے مکان مالک سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
جاں بحق بچوں کی نمازِ جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لواحقین غم سے نڈھال رہے، ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورا علاقہ سوگ کی فضا میں ڈوبا رہا۔
پولیس نے انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی چھت پر مرمتی کام غفلت اور لاپرواہی سے جاری تھا، زیادہ وزن پڑنے کے باعث چھت زمین بوس ہوگئی، جس کے نتیجے میں 14 بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ ایک خاتون ٹیچر سمیت 7 بچے زخمی ہوگئے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق مکان مالک سمیت پانچ افراد کو تحویل میں لے کر تفتیش جاری ہے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع گزشتہ روز شام 4 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی۔ مقامی افراد نے بتایا کہ عمارت میں صبح کے اوقات میں اسکول جبکہ بعد ازاں ٹیوشن سینٹر چلایا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق حادثے کے وقت عمارت کی بالائی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جبکہ گراؤنڈ فلور پر بچے کلاسز میں موجود تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، واقعے کی فوری رپورٹ پیش کرنے اور حادثے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے صوبائی وزراء کو امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کی نگرانی کی بھی ہدایت کی۔



