​جرمنی میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی لہر: حکومت کا دوہرا معیار اور بین الاقوامی مجرمانہ خاموشی

نہال معظم

​جرمنی میں مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور تعصب میں 33 فیصد کا حالیہ اضافہ کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی حقوق اور جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے مغربی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب کسی معاشرے میں نفرت کو عام قبولیت ملنے لگے، تو وہ چند لوگوں کا ذاتی فعل نہیں رہتی بلکہ ایک منظم لہر بن جاتی ہے۔ جرمنی کی موجودہ صورتحال اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہاں اسلامو فوبیا اب عام زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اس خطرناک صورتحال کا اندازہ انسانی حقوق کی تنظیم "CLAIM” کی شریک ڈائریکٹر ریما حنانو کی رپورٹ سے ہوتا ہے، جس کے مطابق جرمنی میں سالانہ 4,096 واقعات اور روزانہ اوسطاً 11 سے زیادہ مسلم مخالف جرائم ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زمین پر حالات سرکاری بیانات سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔ اس بحران کا سب سے بڑا سبب وہ سیاسی اور سماجی جواز ہیں جو اس نفرت کو دیے جا رہے ہیں۔ جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت (AfD) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ثابت کرتی ہے کہ تارکینِ وطن اور مسلمانوں کے خلاف بیانیے کو باقاعدہ سیاست اور ووٹ بینک کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب کسی ملک میں مسلم دشمنی کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا جائے، تو عام لوگوں کے دلوں سے بھی قانون کا خوف اور اخلاقیات ختم ہو جاتی ہے۔

​اس پورے منظر نامے میں سب سے تضاد بیانی جرمن حکومت اور مقتدر حلقوں کے رویے میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے آزاد ماہرین کا پینل قائم کیا جاتا ہے جو مسلم مخالف نسل پرستی کی تصدیق کرتا ہے، تو دوسری طرف عملی سطح پر اس کے تدارک کے لیے ٹھوس قانون سازی اور سکیورٹی اقدامات ناپید دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتی سطح پر مسلمانوں کو بار بار ایک عام شہری کے بجائے "سکیورٹی رسک” یا "انضمام میں رکاوٹ” کے طور پر پیش کرنے کا عمل اس زہریلے بیانیے کو مزید تقویت دیتا ہے۔ جب میڈیا اور پولیٹیکل کلاس مسلسل ایک مخصوص برادری کو شک کے دائرے میں رکھے گی، تو معاشرے کے انتہا پسند عناصر کے لیے ان پر پبلک ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر حملے کرنا آسان ہو جائے گا۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ اس مسلم مخالف نسل پرستی کا سب سے بڑا شکار مسلم خواتین بن رہی ہیں، جو کہ انفرادی متاثرین کا 64.5 فیصد ہیں۔ یہ حقیقت مغرب کے اس بیانیے کو بھی بے نقاب کرتی ہے جو خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی کا علمبردار ہے۔ حجاب یا مسلم شناخت کی حامل خواتین کو جس طرح سرِعام زبانی تذلیل اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ لبرل معاشرے کی آزادی کے اصول سب کے لیے یکساں نہیں ہیں۔

​بین الاقوامی سطح پر اگرچہ اقوامِ متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور یورپی سکیورٹی اداروں نے اسے یورپی معاشرے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، لیکن یہ ردعمل محض بیانات اور سفارتی خطوط تک محدود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ تنازعات، بالخصوص غزہ کی صورتحال کو جواز بنا کر یورپی خطے میں پرامن مسلم آبادیوں کو نشانہ بنانا اور ان کے پرامن احتجاج پر پولیس فورس کا وحشیانہ استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات بھی سیاسی مفادات کے تابع ہیں۔ جرمنی میں آباد ۵۵ لاکھ مسلمان، جو فرانس کے بعد مغربی یورپ کی دوسری بڑی مسلم آبادی ہیں، اس وقت ایک گہرے عدم تحفظ کا شکار ہیں کیونکہ ان کا ریاستی اور قانونی نظام پر سے بھروسہ اٹھ رہا ہے۔ یہ صورتحال صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود جرمنی کے مستقبل کے لیے ایک بڑا فکری چیلنج ہے، کیونکہ جب کوئی ریاست اپنی سب سے بڑی اقلیت کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے اور نفرت کو معاشرتی و سیاسی دھارے کا حصہ بننے دے، تو وہ خود اپنے جمہوری اور اخلاقی وجود کو کھو دیتی ہے۔ لفاظی اور رسمی مذمتوں سے ہٹ کر اب وقت آ گیا ہے کہ جرمن ریاست اس مسلم مخالف نسل پرستی کو ایک سنگین جرم کے طور پر تسلیم کرے اور تعلیمی، قانونی اور انتظامی سطح پر اس کا مقابلہ کرے، ورنہ یہ فکری تعصب پورے یورپی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

مزید خبریں

Back to top button