ایرانی ڈرون ماڈل کا امریکی کاؤنٹر: "وائٹ سائنڈز” کے میدان سے پینٹاگون کا دنیا کو بڑا پیغام!

تحریر:نہال معظم
جدید جنگی حکمتِ عملی اور دفاعی ٹیکنالوجی کی تاریخ میں اس وقت ایک انتہائی اہم موڑ آ چکا ہے، جہاں روایتی بارود اور مہنگے میزائل سسٹمز کے مقابلے میں کم لاگت اور روشنی کی رفتار سے وار کرنے والے ہتھیاروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے نیو میکسیکو کے فوجی میدان "وائٹ سائنڈز مائل رینج” میں کیا گیا ایک اہم لائیو مظاہرہ ہے۔ اس تجربے کی تزویراتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی برسرِ خدمت وزیرِ دفاع نے خود میدانِ جنگ کے ماحول میں ان انرجی ہتھیاروں کو کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دیکھا۔ اس لائیو تجربے کا بنیادی مقصد چھوٹے اور تجارتی ڈرونز سمیت کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں اور مارٹر گولوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کرنا تھا، جس میں امریکی فوج کے تیار کردہ ہائی پاور لیزر اور مائیکرو ویو سسٹمز نے سو فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔
اس نئی اور جدید فوجی مہم کی ضرورت کے پیچھے عالمی جنگی منظرنامے میں آنے والی وہ تبدیلیاں ہیں جنہوں نے روایتی دفاعی بجٹ اور سیکیورٹی کے اصولوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ علاقائی تنازعات بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ کی جنگوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ سستے، عام دستیاب اور بارود سے لیس ڈرونز کسی بھی جدید فوج کے مہنگے ترین دفاعی نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں۔ درحقیقت، ڈرون ٹیکنالوجی کے اس جارحانہ اور سستے ماڈل کو جنگی میدان میں سب سے پہلے ایران نے کامیابی سے استعمال کر کے دنیا پر اپنی تزویراتی دھاک بٹھائی۔ ایران کے "شاہد-136” جیسے سستے، خودکش ڈرونز نے روایتی دفاعی بجٹ کا معاشی توازن اس طرح بگاڑا کہ چند ہزار ڈالرز کے ڈرون کو گرانے کے لیے دفاعی ممالک کو پیٹریاٹ جیسے لاکھوں ڈالرز مالیت کے اینٹی میزائل فائر کرنے پڑتے تھے۔ پینٹاگون کا یہ حالیہ تجربہ بنیادی طور پر اسی ایرانی فوجی حکمتِ عملی کا ایک مؤثر توڑ یا کاؤنٹر ہے، جس کا مقصد مہنگے میزائلوں کے بجائے چند ڈالرز کی لاگت سے روشنی کی رفتار کا استعمال کرتے ہوئے ان ڈرونز کو فضا میں ہی پگھلانا ہے۔
سائنسی اور مستند معلومات کے مطابق، ان انرجی ہتھیاروں کے استعمال کے دو سب سے بڑے فوائد لاگت کی انتہائی کمی اور لامحدود گولہ بارود کی صلاحیت ہے۔ جہاں ایک روایتی میزائل فائر کرنے کی قیمت لاکھوں ڈالرز ہوتی ہے، وہاں لیزر شعاع کے ایک فائر کی لاگت صرف چند ڈالرز یعنی صرف بجلی کی کھپت کے برابر آتی ہے۔ اس کے علاوہ، جنگی جہازوں یا دفاعی گاڑیوں میں میزائلوں اور گولیوں کا ذخیرہ ایک خاص تعداد کے بعد ختم ہو جاتا ہے، جس کے بعد انہیں دوبارہ لوڈ کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، لیکن لیزر ہتھیار جب تک ایک مستحکم پاور سپلائی یا جنریٹر سے جڑے ہیں، وہ بنا رکے لامحدود مرتبہ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نظام میں ہائی انرجی لیزر ایک خاص ہدف پر شدید گرمی مرکوز کر کے اس کے الیکٹرانک سرکٹس کو پگھلا دیتی ہے یا اس کے اندرونی بارود کو ہوا میں ہی پھاڑ دیتی ہے، جبکہ مائیکرو ویو سسٹمز ایک وسیع دائرے میں طاقتور لہریں خارج کر کے بیک وقت حملہ کرنے والے ڈرونز کے پورے غول کے الیکٹرانکس کو ایک ساتھ ناکارہ بنا سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر پینٹاگون نے مالی سال 2027 کے دفاعی بجٹ میں انرجی ہتھیاروں کی ریسرچ اور انہیں جنگی میدانوں میں نصب کرنے کے لیے 2 ارب ڈالر کی تاریخی فنڈنگ تجویز کی ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، عالمی سطح پر بارود سے ڈیجیٹل اور لیزر شعاعوں کی طرف منتقل ہوتی یہ جنگی ٹیکنالوجی ہماری دفاعی پالیسی کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ضرور ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اس دوڑ میں بالکل پیچھے نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس پہلے سے ہی جدید مائیکرو ویو ٹیکنالوجی اور شارٹ رینج لیزر ہتھیار موجود ہیں، جو اس وقت ایکٹو سرواسرز کا حصہ ہیں اور پاک بحریہ کے جدید جنگی جہازوں پر کامیابی سے نصب بھی کیے جا چکے ہیں۔ روایتی فضائی دفاع کے میدان میں پاکستان کے پاس S-400 کی جگہ انتہائی مؤثر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والا طرزیاتی نظام HQ-9B پہلے سے موجود ہے، جبکہ پاکستان اب ہائپرسونک اور بیلسٹک میزائلوں کا شکار کرنے والا دنیا کا جدید ترین سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹم HQ-19 بھی حاصل کر رہا ہے۔ البتہ، پاکستان کے پاس اس وقت انرجی ہتھیاروں کی حد تک ڈرون اور چھوٹے خطرات کو گرانے کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن بڑے میزائلوں کو فضا میں ہی انٹرسیپٹ (کاؤنٹر) کرنے والا ہائی پاور لیزر سسٹم ابھی دستیاب نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے علمی اور عملی رائے یہی ہے کہ اب ہمیں جینیاتی اور بائیوٹیک کے ساتھ ساتھ الیکٹرو میگنیٹک اور ہائی انرجی لیزر ریسرچ پر اپنی توجہ مزید بڑھانی ہوگی تاکہ اس مقامی لیزر ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کر کے بڑے میزائلوں کے خلاف بھی ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ نبضِ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم دفاعی میدان کی اس جدید ترین لہر کو بروقت گلے لگائیں کیونکہ مستقبل کی جنگیں اب بارود سے نہیں بلکہ روشنی کی رفتار سے لڑی جائیں گی۔



