750سبجیکٹ اسپیشلسٹ انٹرنیز کی فوری بحالی کا مطالبہ،انصاف کی فراہمی پر زور

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سبجیکٹ اسپیشلسٹ انٹرنیز (SSI) نے سندھ حکومت اور محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ تعلیمی اداروں میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
انٹرنیز کے مطابق وہ گزشتہ دو سال سے سندھ کے مختلف ہائر سیکنڈری اسکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ الیکشن ڈیوٹی، امتحانی نگرانی، طلبہ کی رہنمائی اور دیگر تعلیمی امور میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی تعلیمی افسران نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مدتِ ملازمت میں توسیع کی سفارشات بھی کیں۔
سبجیکٹ اسپیشلسٹ انٹرنیز نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے باوجود سندھ حکومت اور محکمۂ تعلیم کی جانب سے بغیر کسی شفاف طریقۂ کار کے انہیں ٹرمینیشن لیٹر جاری کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خدمات حاصل کرنے کے بعد بیک ڈیٹ آرڈرز کے ذریعے انہیں فارغ کیا گیا، جو انصاف، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
انٹرنیز کا کہنا ہے کہ اپنی مدتِ ملازمت کے دوران انہوں نے اسکولوں میں سائنس نمائشوں، پوسٹر پریزنٹیشنز، ماہانہ ٹیسٹ سسٹم اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف تعلیمی پروگراموں کا انعقاد کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے اور تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ کسی خصوصی رعایت کا نہیں بلکہ صرف انصاف اور بحالی ہے۔ انٹرنیز نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور محکمۂ تعلیم سے اپیل کی کہ 750 سبجیکٹ اسپیشلسٹ انٹرنیز کو فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ سندھ کے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اس موقع پر سنیل کوٹک، ضلع مٹھی تھرپارکر کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ انٹرنی نے کہا کہ یہ صرف 750 نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ سندھ کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے، جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔



