سندھ میں پانی کی قلت کیخلاف عوامی تحریک کی کڈھن میں ریلی

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)بدین کی ساحلی پٹی میں پانی کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے کڈھن میں ریلی نکال کر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ ریلی میں آبادگاروں، ہاریوں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ریلی کے شرکاء نے سندھ حکومت اور محکمہ آ بپاشی کے خلاف سخت نعرے لگارہے تھے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی رابطہ سیکریٹری لال جروار، ضلع بدین کے صدر مہران درس، مختیار بکار ی محبت ہالیپوٹو جیون کمار، ایڈووکیٹ کامران لاکھو، ستار گوپانگ، ریوو کولہی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پانی کا مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ فصلیں سوکھ چکی ہیں جبکہ آبادگاروں اور ہاریوں کا معاشی قتلِ عام جاری ہے۔ انسان، پرندے اور جانور پانی کے ایک ایک قطرے کے لیے ترس رہے ہیں رہنماؤں نے مزید کہا کہ پنجاب نے زبردستی دو متنازع نہریں، تونسا پنجند اور چشمہ جہلم کینال، کھول کر سندھ کے پانی پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ کینالز کا اجرا اور معاہدے کے مطابق سندھ کو پانی نہ دینا سندھ کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت مکمل طور پر سندھ دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی سہولت کاری سے سندھ کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ارسا کا ادارہ مکمل طور پر وفاق کے حوالے کر دیا گیا ہے انہوں نے سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ دریائے سندھ، جو ان کے وجود اور بقا کا مسئلہ ہے، کو بچانے، اپنی زمینوں، وسائل اور شناخت کے تحفظ کے لیے متحد اور منظم ہو کر پرامن اور جمہوری جدوجہد کریں۔



