تھرکول متاثرین کیلئےعلیحدہ فنڈاورخصوصی ریلیف پیکیج کامطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھر کول منصوبوں سے متاثرہ افراد نے اپنے مسائل کے مستقل حل کے لیے علیحدہ فنڈ مختص کرنے اور خصوصی ریلیف پیکیج کے اجراء کا مطالبہ کیا ہے۔ تھر راڄوڻي کٹھ کے رہنماؤں اور کول متاثرین کے نمائندوں دوست محمد، عبدالعزیز قادری، سترت کمار، ادریس کمار، جنیف بھٹی، رسول بخش سموں، محبوب علی، غلام علی، پرکاش میگھواڑ، علی خان، نبی بخش اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تھر کے عوام نے ملک کے توانائی شعبے کی ترقی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ کوئلے کی کان کنی اور بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے باعث ہزاروں افراد اپنے آبائی گھروں، زرعی زمینوں اور روزگار کے ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبوں کے نتیجے میں ہوا اور پانی کی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی آبادی کو صحت، ماحولیات اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ اس لیے سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پالیسی اور بجٹ مختص کرے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بے گھر ہونے والی برادریوں کی بحالی، مناسب معاوضے اور مالی امداد کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ کوئلے کی کانوں سے نکلنے والے پانی کے اخراج کے باعث متاثر ہونے والی زرعی زمینوں، چراگاہوں اور روزگار کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تھرپارکر میں کوئلے کی آلودگی سے متاثرہ آبادی کے لیے خصوصی ہیلتھ کیئر اسکیم، جدید طبی سہولیات، محفوظ پینے کے پانی کے منصوبے، آر او پلانٹس کی بحالی اور صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کے لیے صنفی حساس معاوضہ اسکیمیں متعارف کرائی جائیں اور معاوضے کی ادائیگی شفاف طریقے سے خواتین کے اپنے نام پر یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی بجٹ مختص کرتے ہوئے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ کول متاثرین نے مطالبہ کیا کہ تھر کے عوام کو مفت بجلی فراہم کی جائے کیونکہ وہ ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل برداشت کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی تھرپارکر میں خصوصی کارڈیک اور پبلک ہیلتھ سینٹر، سرکاری یونیورسٹی، شجرکاری مہم اور موسمیاتی موافقت کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ بیان کے آخر میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تھر کول منصوبوں سے متاثرہ دیہات کو رائلٹی اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ فنڈز میں منصفانہ حصہ دیا جائے اور عوامی نگرانی کے تحت شفاف نظام قائم کیا جائے تاکہ متاثرہ کمیونٹیز کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی۔



