کوٹری بیراج پرمنچھر کے آلودہ پانی کے بڑھتے دباؤ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)کوٹری بیراج پر منچھر کے آلودہ پانی کے بڑھتے دباؤ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی اور کروڑوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ سندھ میں پانی کے معیار اور تقسیم کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات جنم لینے لگے ہیں، جہاں کوٹری بیراج کے بالائی اور زیریں علاقوں میں منچھر جھیل سے خارج ہونے والے آلودہ اور نمکیات سے بھرپور پانی کے اثرات پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین، کاشتکاروں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کا سائنسی بنیادوں پر فوری جائزہ نہ لیا گیا تو کوٹری بیراج سے وابستہ زرعی زمینوں کی زرخیزی، فصلوں کی پیداوار، آبی حیات اور کراچی سمیت سندھ کے متعدد اضلاع کی انسانی آبادی کو طویل المدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کوٹری بیراج سندھ کی زراعت، معیشت اور پینے کے پانی کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ ہے، تاہم گزشتہ کئی برسوں سے پانی کے بہاؤ اور معیار کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ جنوری سے جون تک کوٹری بیراج کے بالائی حصے تک پہنچنے والے پانی میں بڑی مقدار منچھر جھیل سے خارج ہونے والے آلودہ پانی کی شامل ہوتی ہے، جس کے باعث نہروں میں بہنے والے پانی کے رنگ اور معیار میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منچھر جھیل، جو کبھی جنوبی ایشیا کی اہم میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہوتی تھی، برسوں سے نکاسی آب، زرعی ریلوں اور نمکیاتی دباؤ کے باعث ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے۔ آبپاشی کے حلقوں کے مطابق سندھ کے محکمہ آبپاشی کی جانب سے ایک طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت منچھر جھیل سے تقریباً ایک ہزار کیوسک پانی اسی وقت چھوڑا جانا چاہیے جب دریائے سندھ میں سکھر بیراج کے زیریں حصے اور کوٹری بیراج کے بالائی حصے کے درمیان پانی کا بہاؤ 45 ہزار سے 52 ہزار 500 کیوسک تک ہو، تاکہ دریا میں مناسب مقدار میں میٹھا پانی موجود رہے اور آلودگی کے اثرات کم سے کم ہوں۔ تاہم مقامی کاشتکاروں اور سماجی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس اصول پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث منچھر کے پانی کے اثرات زیریں سندھ کے نہری نظام تک پہنچ رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق نمکیات اور آلودگی سے متاثرہ پانی کے مسلسل استعمال سے زمین کی زرخیزی کم ہونے، مٹی میں شوریدگی بڑھنے، فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے اور زرعی معیشت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ سندھ کے زیریں اضلاع پہلے ہی سیم و تھور اور پانی کے معیار میں کمی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں، جبکہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صورتحال برقرار رہی تو کپاس، گندم، چاول، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار مزید متاثر ہوسکتی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوٹری بیراج سے جڑا آبی نظام کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور ٹنڈو محمد خان سمیت کئی اضلاع کی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی زندگیوں سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق پانی کے معیار میں خرابی نہ صرف زراعت بلکہ انسانی صحت، مویشیوں، آبی حیات اور ماحولیاتی توازن کے لیے بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ عوامی اور زرعی حلقوں نے اس صورتحال کو سندھ کے آبی وسائل، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی مستقبل سے جڑا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے معیار، منچھر جھیل سے اخراج کے نظام اور کوٹری بیراج تک پہنچنے والے پانی کی صورتحال کا جامع سائنسی جائزہ لیا جائے تاکہ صوبے کے زرعی، ماحولیاتی اور انسانی مفادات کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



