بدین:اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت جاری ہونیوالے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مبینہ مالی خردبرد کا انکشافات

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ضلع بدین میں اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت جاری ہونے والے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مبینہ مالی خردبرد کے انکشافات سامنے آئے ہیں محکمہ تعلیم اور اساتذہ کی تنظیم پ ٹ الف کے ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم محکمہ خزانہ آفیس اور وینڈر مافیا نے ملی بھگت سے ایک ہفتے کے اندر 99 کروڑ روپے کی فرضی خریداری ظاہر کرکے بل خزانہ آفیس میں جمع کرا دیئے جبکہ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ضلع کے کسی بھی اسکول نے عملی طور پر کوئی خریداری نہیں کی تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی جانب سے سندھ بھر کے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کے لیے اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت 18 ارب 67 کروڑ روپے جاری کیے گئے تھے تاکہ اسکولوں کو مالی معاملات میں خودمختاری دی جا سکے اور تعلیمی سہولیات بہتر بنائی جا سکیں اسی مد میں ضلع بدین کے پانچوں تعلقوں کے 2,045 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے لیے 99 کروڑ روپے مختص کیے گئے
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی کٹ آف ڈیٹ (10 جون) سے قبل محکمہ تعلیم کے بعض ڈی ڈی اوز، ہیڈ ماسٹرز، ہیڈ مسٹریسز، ٹریزری عملے اور مبینہ وینڈر مافیا نے فرضی کمپنیوں کے لیٹر پیڈز، مہروں اور جعلی بلوں کے ذریعے 99 کروڑ روپے کی خریداری ظاہر کر دی۔ ان بلوں میں اسکول رجسٹرز، ڈسٹر، چاک، الماریاں، کرسیاں، میزیں، بلیک بورڈز، رنگ و روغن اور بڑھئی، پلمبر، الیکٹریشن اور پینٹرز کی خدمات شامل دکھائی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بدین شہر میں ڈی پی او چوک کے قریب قائم ایک فوٹو اسٹیٹ مرکز سے منسلک دو بھائیوں کی ایف بی آر میں مختلف ناموں سے نو سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، جن کے ذریعے مبینہ طور پر یہ جعلی بل تیار کیے گئے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بدین ون، جہاں تقریبا 3,500 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور جہاں پہلے ہی متعدد ترقیاتی کاموں اور سولر سسٹم سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ریکارڈ موجود ہے، اس کے تحت قائم پرائمری اسکولوں کے لیے مختص 94 لاکھ روپے کے بجٹ کو خرچ ظاہر کرنے کا ٹھیکہ مبینہ طور پر 17 لاکھ روپے میں دیا گیا زرائع کے مطابق اس کام میں ایک مقامی کمپیوٹر سینٹر چلانے والے شخص کو شامل کیا گیا جس کے نام پر چار مختلف کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ اس سے متعلق بل بھی ٹریزری آفس میں جمع کرائے جا چکے ہیں، تاہم متعلقہ اسکولوں میں اب تک کوئی خریداری نہیں ہوئی۔ علمی ادبی ، سماجی اور شہری حلقوں نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر تعلیم سید سردار شاہ، محکمہ خزانہ انسپکشن ٹیم اور چیئرمین اینٹی کرپشن سندھ کے علاوہ نیب حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بدین میں اسکول اسپیسیفک بجٹ کے تمام اخراجات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ملوث افسران، اہلکاروں اور فرضی کمپنیوں کے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔



