چین کا کوئی دوست نہیں” کیا واقعی؟ بھارتی سکالر کی ہرزہ سرائی پرچینی سفارتکار کی تاریخ ساز پھٹکار

تحریر:گاؤ ژیکائی(چینی زبان سے ترجمہ)
(گاؤ ژیکائی ایک تجربہ کار چینی سفارت کار اور سابق رہنما ڈینگ ژیاؤپنگ کے مترجم، جو ییل یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں اور آج کل چینی میڈیا پر اپنے جارحانہ، مدلل اور دو ٹوک اندازِ بیان کی بدولت چین کے سرکاری بیانیے کے سب سے توانا اور مقبول ترجمان مانے جاتے ہیں)
عالمی سیاست کی شطرنج پر اب کھیل کے انداز مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ جب میں نے سنا کہ بھارت کے نام نہاد دانشور، ڈاکٹر آنند رنگناتھن، جو اپنی حد سے زیادہ مغرب نواز سوچ، سخت گیر نظریات اور چین مخالف بیان بازی کے لیے مشہور ہیں، یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دنیا میں چین کا کوئی دوست نہیں، تو ان کی سطحی سوچ پر مجھے ہنسی آ گئی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی قوم کو عالمی طاقت بننے کے خواب دکھاتے ہیں، مگر انہیں یہ ادراک نہیں کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہماری ویٹو طاقت کے بغیر ان کے یہ خواب محض ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ میں، گاؤ ژیکائی، دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر بھارت چین کو اپنا دوست نہیں سمجھتا تو اسے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے خواب کو ہمیشہ کے لیے بھلا دینا چاہیے، کیونکہ چین کے بغیر یہ تاریخ کبھی رقم نہیں ہو سکتی، اور عالمی سطح پر خود کو منوانے کی اس کی ہر کوشش ہمارے تعاون کی محتاج رہے گی۔
تائیوان کے معاملے میں بھی ان کا اور ان کے سرپرستوں کا وہی پرانا اور فرسودہ بیانیہ سامنے آتا ہے۔ ژو ژیوئی کا یہ طنز بالکل بجا ہے کہ اگر کوئی تائیوانی خود کو چینی ماننے سے انکاری ہے تو شاید وہ اس زمین کا نہیں بلکہ کسی اور سیارے کا باشندہ ہے، کیونکہ حقیقت سے اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو تائیوان کی حکمران جماعت کے بنائے ہوئے معلوماتی حصار میں قید ہو چکے ہیں۔ وہ نوجوان نسل کو اس خوف میں مبتلا رکھتے ہیں کہ کہیں وہ سوشل میڈیا کے ذریعے چین کی حقیقی ترقی کا مشاہدہ نہ کر لیں، کیونکہ جس دن انہیں حقیقت کا ادراک ہو گیا، اسی دن علیحدگی پسندی کا یہ سارا ڈراما زمین بوس ہو جائے گا۔
جب امریکہ ہمیں اپنی بالادستی کے زور پر ڈرانے کی کوشش کرتا ہے تو میں، گاؤ ژیکائی، پوری دنیا کے سامنے تین مرتبہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ہمیں کوئی پرواہ نہیں، ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ امریکی حکمران شاید یہ بھول چکے ہیں کہ پانچ ہزار سالہ تہذیب کی حامل قوم کسی بیرونی طاقت کی منظوری کی محتاج نہیں ہوتی۔ ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب یہ دنیا ہماری شرائط پر چلے گی، اور اگر امریکہ کو یہ بات سمجھ نہیں آتی تو ہم اگلے پانچ ہزار سال بھی ان کے تعاون کے بغیر گزارنے کی پوری صلاحیت اور حوصلہ رکھتے ہیں۔
جب ہم جاپان اور فلپائن کی جانب دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں وہی عسکریت پسندی دکھائی دیتی ہے جو امریکہ کے اشاروں پر خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے جس کا انجام خود ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ جاپان کی موجودہ حکومت کا کردار اس خطے میں گویا تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جس میں وہ اپنے عوام کو امریکی مفادات کی خاطر جھونک رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے، چین اب وہ کمزور قوم نہیں رہا جسے دھمکایا جا سکے۔ ہم اب ایک ایسی اٹل حقیقت بن چکے ہیں جسے مغرب مزید نظر انداز نہیں کر سکتا۔ تائیوان کے نوجوان بیدار ہو رہے ہیں، وہ خود چین کا سفر کر رہے ہیں، اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ حقیقت کیا ہے اور تائیوان کی حکمران اشرافیہ کا بیانیہ کس حد تک حقیقت سے دور ہے۔
آخر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تاریخ کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ چین کو دوستوں کی ضرورت ہے، وہ آج یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ چین اپنی خود انحصاری کے بل بوتے پر مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ہمیں کسی کی دوستی کی خیرات درکار نہیں، کیونکہ ہم خود اس دنیا کے معمار ہیں اور ہماری ترقی کا سفر نہ کسی بھارتی دانشور کے تبصرے سے رک سکتا ہے اور نہ ہی کسی امریکی صدر کی دھمکی سے۔ ہم اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں، اور جو ہمارے ساتھ قدم ملا کر چلے گا، وہی تاریخ کا حصہ بنے گا، باقی سب محض وقت کا ضیاع ہیں۔



