پنجاب زبردستی فلڈکینال چلاکر سندھ کے حصے کا پانی لے رہا ہے،ماہرین کاسیمینار سے خطاب

ٹھٹھہ(جاويد لطيف ميمن /جانوڈاٹ پی کے)سندھ کے تاریخ دانوں، محققین، دانشوروں، پانی اور ماحولیات کے ماہرین نے پانی کے ماہر انجینئر اوبھایو خان خشک کو موجودہ وقت میں سندھ دریا کا طاقتور آواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بہادری کے ساتھ اپنے قلمی محنت کے ذریعے سندھ دریا پر ہونے والی ڈکیتی اور پانی پر قبضے کے بارے میں اعداد و شمار کے ساتھ کتاب لکھ کر ایک بڑا تاریخی کام کیا۔ ان کے انتقال سے سندھ اور سندھ دریا اپنے ایک وکیل سے محروم ہو گئے ہیں۔

پریس کلب ٹھٹ۽ہ میں سندھی دبی سنگت شاخ ٹھٹھہ کی جانب سے پانی کے ماہر اوبھیو خان خشکی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر اور سینیٹر سسئی پلیجو نے کہا کہ کچھ لوگ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انجینئر اوبھایو خان خشک ایک پسماندہ علاقے سے نکل کر بڑی شخصیت بن کر ابھرے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے پانی کی تقسیم اور سندھ دریا پر ہونے والی ڈکیتی کے خلاف لکھ کر سندھ کے لوگوں کو بیدار کیا۔

پانی ہماری نسلوں کی بقا ہے،سسی پلیجو

انہوں نے کہا کہ پانی ہماری نسلوں کی بقا ہے۔ اگر اسے ڈیموں اور نہروں کے ذریعے قید کیا گیا تو اس کے نہ صرف معیشت پر بلکہ ہماری زندگیوں اور آنے والی نسلوں پر بھی بڑے اثرات پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم پانی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ جنگ سالوں سے جاری ہے۔ ارسا کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سندھ کے ساتھ پانی کے معاہدے پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا۔ ایک طرف سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، ڈاؤن اسٹریم میں پانی کی قلت کی وجہ سے انسانی جانیں تڑپ رہی ہیں تو دوسری طرف پنجاب زبردستی فلڈ کینال چلا کر سندھ کے حصے کا پانی لے رہا ہے، جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انجینئر اوبھایو خشک اپنے خاندان کے ساتھ دوستوں کا بلکہ سندھ کا سرمایہ تھے،نامور محقق ڈاکٹر محمد علی مانجھی

نامور محقق ڈاکٹر محمد علی مانجھی نے کہا کہ انجینئر اوبھایو خشک اپنے خاندان کے ساتھ دوستوں کا بلکہ سندھ کا سرمایہ تھے۔ انہوں نے پانی کے درد کو محسوس کیا اور وقت کی طاقتور آواز بن گئے۔ ان کے اچانک انتقال سے سندھ پانی کے ایک بڑے جانکار سے محروم ہو گیا ہے۔

ماحولیات کے ماہر ناصر پنہور، جئے سندھ قومی پارٹی کے سربراہ نواز خان زئور، پروفیسر امان اللہ جوکھیو، ساس ٹھٹھہ کے سیکریٹری فقیر غلام حسین گگدام، پروفیسر عبدالستار بلوچ، عوامی شاعر ڈاکٹر مارو خشک، محمد بارن، فقیر اکرم منگنھنار، انجینئر اوبھایو خشک کے بھائی ڈاکٹر یعقوب خشک، لال بخش کاتیار،، سید انور شاہ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ ان کرداروں کو یاد رکھتی ہے جو وطن، قوم، اس کے وسائل اور بقا کے حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے ہیں۔ اوبھایو خشک سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ1947سے سندھ کی تباہی کا سلسلہ شروع کیا گیا، جو اس وقت بھی جاری ہے۔ یہاں تک کہ اب سندھ دریا کے پانی پر ڈکیتی کے ساتھ دہشتگردی بھی شروع کر دی گئی ہے، جس میں بھارت اور چین بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تعلیمی، فنی اور سائنسی لحاظ سے اپنی نسلوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کے ساتھ بھرپور عوامی جدوجہد بھی چلائیں تاکہ ہم اپنے وجود، دھرتی اور نسلوں کو محفوظ بنا سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button