موٹروے پر سرکاری اہلکار کی "جنرل ” کے نام پرکھلی بدمعاشی

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​فیصل آباد-گوجرہ موٹروے پر ایک سرکاری اہلکار کی جانب سے مسافر کے ساتھ بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب موٹروے انٹرچینج پر موجود اہلکار نے مسافر سے کمپیوٹرائزڈ پرچی کا مطالبہ کیا اور ادائیگی نہ ہونے پر نہ صرف اسے دھمکایا بلکہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے انتہائی غیر مہذب زبان استعمال کی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وردی سے محروم اس اہلکار نے مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے جس رعب و دبدبے کا مظاہرہ کیا اور "جنرل” کا نام لے کر دھمکیاں دیں، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں سرکاری رٹ اب عام شہریوں کو ہراساں کرنے کا دوسرا نام بن چکی ہے۔

​یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ موٹروے جیسے اہم ترین ادارے میں تعینات ملازمین کا غرور اور فرعونیت اب اپنی حدیں پار کر چکی ہے۔ کیا کسی سرکاری اہلکار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ تذلیل کا نشانہ بنائے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے؟ اہم سوال یہ ہے کہ اس اہلکار کے پاس نہ تو شناخت کے لیے وردی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا قانونی جواز، اس کے باوجود وہ شہریوں کو دھمکیاں دینے میں مصروف رہا۔ یہ واقعہ ہمارے سرکاری اداروں کے اندر پھیلی ہوئی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سرکاری ملازم خود کو عوام کا خادم سمجھنے کے بجائے ان کا آقا سمجھتا ہے۔ اب عوام اس بات کا جواب مانگ رہے ہیں کہ ایسے من مانی کرنے والے عناصر کا احتساب کب اور کون کرے گا؟

​اس واقعے کی حقیقت اور موٹروے انتظامیہ کے رویوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے وی لاگ مکمل ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button