سی ٹی ڈی کی اندھی گولیوں کا شکار9سالہ بچی،حکومتی اداروں کی لاپرواہی پر سوالات؟

چکوال(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)چکوال میں سی ٹی ڈی (کاؤنٹر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ بچی ہانیہ کے جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ نجی دورے پر آئے ایک اوورسیز پاکستانی خاندان پر ڈاکوؤں کی جانب سے لوٹ مار کے بعد جب یہ خاندان وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مشکوک سمجھ کر ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس افسوسناک واقعے میں جہاں 9 سالہ ہانیہ جان کی بازی ہار گئی، وہیں اس کا والد اور بھائی شدید زخمی ہوئے، جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ حکومتی اداروں کی کارکردگی اور غیر قانونی طریقہ کار پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور غلط فہمی کی آڑ میں بے گناہوں کو نشانہ بنانے کی یہ کوئی پہلی مثال نہیں، لیکن اس بار ایک نو سالہ بچی کی جان نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حیران کن طور پر، قومی میڈیا کی جانب سے اس واقعے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے، جو ریاستی اداروں کے احتساب اور میڈیا کی آزادی پر بڑے سوالات اٹھاتی ہے۔ کیا قانون کی عملداری کا مطلب بے گناہوں کا خون بہانا ہے؟ ایک معصوم بچی کی موت کا حساب کون دے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہر ذی شعور شہری کا مطالبہ ہے۔




