وفاقی بجٹ اورحکومتی اتحاد میں دراڑ،حکومت کا قدم دودھاری تلوار پر!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد ملکی سیاسی منظرنامہ اچانک تبدیل ہو گیا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ وفاقی بجٹ میں17ہزار ارب روپے کے ریکارڈ حجم کے باوجود اسے روایتی اور معیشت کے لیے ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملکی معیشت اس وقت مصنوعی آکسیجن پر زندہ ہے اور بجٹ میں تنخواہوں میں معمولی اضافہ مہنگائی کے مارے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
اس سیاسی کشمکش میں بلاول بھٹو زرداری کی ناراضگی اور گلگت بلتستان کے حوالے سے مطالبات نے حکومتی اتحاد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پس پردہ بڑی سازشیں رچائی جا رہی ہیں جن کا مقصد نہ صرف موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو تبدیل کرنا ہے بلکہ یہ معاملات کشمیر کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام برقرار رہا اور سازشیں کامیاب ہو گئیں تو قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے۔ بجٹ کے بعد کے اس ماحول نے حکومت کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ملک میں غیر یقینی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے جس سے سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
صحافی سید عمران شفقت کے مطابق سیاسی حالات کا تفصیلی تجزیہ جاننے کے لیے وی لاگ مکمل ملاحظہ کریں۔




