جنیوا میں امریکاایران معاہدہ پاکستانی ثالث کی موجودگی میں ہوگا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں معاہدے کا امکان قوی تر ہوتا جارہا ہے۔ دفترخارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں یہ عمل اہم ترین ثالث یعنی پاکستان کی موجودگی میں انجام پائے گا۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر ترین اہلکار اور لیگل ٹیم کو جنیوا بھیجنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا پاکستان کی کوئی سیاسی شخصیت بھی اس اہم ترین موقع پر جنیوا میں موجود ہوگی یا نہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کےبعد پاکستان نے پچھلے چند ماہ میں بطور ثالث اہم ترین کردار ادا کیا ہے اور جنگ بندی بھی ممکن بنائی تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر بذات خود ایران کا دو بار اس سلسلے میں دورہ کرچکے ہیں جس میں انکی ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم ترین شخصیات سے ملاقات ہوئی تھی۔
چند ہی روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی خط اور وزیراعظم شہبازشریف کا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے نام اہم پیغام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی تک پہنچایا تھا۔
خود امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کے بطور ثالث کردار کو مسلسل سراہتے رہے ہیں، وائٹ ہاوس میں جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان نے شاندار کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی بھی تعریف کی تھی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کیلئے کہا تھا کہ وہ جنرل جو عظیم جنرل ہیں، میں انہیں جنرل کہتا ہوں مگر وہ درحقیقت فیلڈ مارشل ہیں یعنی ایک درجہ اور اوپر ہیں۔
امریکا کی طرح ایران بھی پاکستان کی ثالثی پر شکرگزار ہے اور بارہا واضح کرچکا ہے کہ مذاکرات پاکستان کی ہی ثالثی میں انجام پارہے ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو سے 29مئی کو ملاقات میں بھی ایران کی صورتحال پر بات ہوئی تھی جبکہ اسحق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان مسلسل رابطہ ہے۔
اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ یہی تو کامیاب ترین سفارتکاری ہے کہ پاکستان کی ثالثی کا امریکا اور ایران دونوں ہی قائل ہیں۔
جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ ہوا تو پاکستان کی موجودگی اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ پاکستان ہی تھا جس نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تاریخ میں پہلی بار براہ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن بنایا تھا۔
گیارہ اور بارہ اپریل کو ہوئے ان مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، صدرٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے کی تھی جبکہ ایران کی نمایندگی چیف مذاکرات کار و پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر نے کی تھی۔
اسلام آباد میں 14 گھنٹے تک جاری رہے ان تاریخی مذاکرات میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر بات کی تھی تاہم ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔


