تنخواہوں میں10،پنشن میں7فیصد اضافہ،وفاقی حکومت نے بجٹ پیش کردیا،سپرٹیکس ختم،3ہزارسی سی سے اوپر گاڑیوں پر ڈیوٹی عائد

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)دستاویز کےمطابق آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے،گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپےمنتقل کیئےجائیں گے،وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپےہے،اندرونی ذرائع سے 2034 ارب،بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملےگا،حکومت ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک سے 4012 ارب حاصل کرے گی۔
دستاویزات کےمطابق اگلےمالی سال سرکاری اداروں کی نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہوں گے،دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ہزار ارب مختص کیے گئے،حکومت اگلے مالی سال جاری اخراجات پر 17 ہزار 495 ارب خرچ کرے گی،آئندہ مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 54 ارب خرچ ہوں گے،پنشن ادائیگی کیلئے 1 ہزار 169 ارب، سول حکومت کیلئے 1 ہزار 71 ارب مختص کیے گئے ہیں،جبکہ نئے مالی سال ہنگامی اقدامات کیلئے بجٹ میں 430 ارب روپے مختص ہیں
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے بجٹ مسودے 27-2026 کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پر بریفنگ دی۔
جس کے بعد کابینہ نے وفاقی بجٹ 27-2026 کی منظوری دے دی۔
قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمدللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔



