سندھ کے مختلف اضلاع میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کیخلاف کارروائیاں

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ کے مختلف اضلاع میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے خلاف محکمہ ریونیو کے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ضلع بدین کے سب سے بڑے تجارتی مرکز ماتلی میں حالیہ کارروائی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی ریونیو، مارکیٹ نگرانی اور صحتِ عامہ کے تناظر میں نمایاں ہو گیا ہے، حالیہ دنوں اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ڈاکٹر راشد چنا اور مختیارکار معصب جونیجو نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ایک سگریٹ ایجنسی پر کارروائی کرتے ہوئے بڑی مقدار میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ برآمد کیے جس کے بعد مقامی سطح پر اس کاروبار کے حجم اور اثرات پر بحث میں مزید تیزی آ گئی ہے، مارکیٹ ذرائع کے مطابق کاروباری اصطلاح میں 50 ڈنڈوں پر مشتمل اس کارٹن کو عموماً “5 ایم کارٹن” کہا جاتا ہے جس میں ہر ڈنڈے میں 10 پیکٹ اور ہر پیکٹ میں 20 سگریٹ شامل ہوتے ہیں اس طرح ایک کارٹن میں مجموعی طور پر تقریباً 10 ہزار سگریٹ موجود ہوتے ہیں اور ایسے کارٹن 35 ہزار سے 55 ہزار روپے تک فروخت ہوتے ہیں جبکہ قانونی طور پر ٹیکس اور ڈیوٹیز ادا کرنے والے برانڈز کی قیمت اس سے نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث سستے متبادل کی دستیابی مارکیٹ میں طلب کو برقرار رکھتی ہے، کاروباری اور صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانونی سگریٹ ساز کمپنیاں بھاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرتی ہیں تاہم غیر دستاویزی اور نان کسٹم پیڈ مصنوعات کی موجودگی سے دستاویزی معیشت اور ریونیو نظام پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں اور مارکیٹ میں بعض مقامی برانڈز 90 سے 130 روپے فی پیکٹ میں دستیاب ہیں جبکہ قانونی برانڈز 240 سے 250 روپے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت ہوتے ہیں جس سے قیمت کا واضح فرق اس کاروبار کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے، صحتِ عامہ کے حوالے سے طبی حلقوں کے مطابق تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ پھیپھڑوں دل اور دیگر سنگین بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے جبکہ بعض ڈاکٹروں کے مطابق حالیہ برسوں میں منہ کے کینسر اور دیگر کینسر کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں تمباکو پر مبنی مصنوعات بشمول سگریٹ اور دیگر ٹوبیکو مصنوعات کو ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جاتا ہے اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے گٹکا اور دیگر غیر قانونی تمباکو مصنوعات کے خلاف اقدامات جاری ہیں تاہم سگریٹ خصوصاً غیر دستاویزی یا کم نگرانی والے برانڈز کے حوالے سے مزید مؤثر نگرانی اور آگاہی کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے جبکہ شہری اور تجارتی حلقوں کے مطابق ماتلی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں حالیہ کارروائیوں نے نان کسٹم پیڈ سگریٹ کے کاروبار اور اس کے مختلف پہلوؤں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے اور اس پورے معاملے میں ریونیو نگرانی مارکیٹ کنٹرول اور صحتِ عامہ کے تناظر میں مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ قومی ریونیو کے تحفظ اور منصفانہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔#

مزید خبریں

Back to top button