کشمیرمحاذپربلاول بھٹو کی انٹری!احتجاجی کمیٹی کیخلاف سخت اقدامات کاعندیہ

مظفر آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)آزاد جموں و کشمیر میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے وفاقی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حکومتی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا ماننا ہے کہ کشمیر میں جاری انتشار کو سیاسی بصیرت کے ساتھ ہینڈل کیا جا سکتا تھا، تاہم ریاست کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ریاستی رٹ کے چیلنج نے معاملات کو الجھا دیا ہے۔
موجودہ بحران کے دوران سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا فیصلہ بلاول بھٹو زرداری کی حکمت عملی کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ عدالت نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ کسی انتظامی حکم سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ اس قانونی فیصلے نے جہاں حکومت کو ریلیف دیا ہے، وہیں سیاسی دباؤ کو بھی کم کرنے میں مدد دی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ جاری محاذ آرائی کو ختم کرنے اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے نئے سرے سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی اس بات پر مصر ہیں کہ احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانون اپنی راہ لے گا، جبکہ عوام کے مسائل کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا ہی واحد راستہ ہے۔




