کے پی میں ایمرجنسی آخری آپشن کے طور پر نافذ کی گئی، ہمیں سیاست سے زیادہ ریاست عزیز ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا، کیونکہ صوبے میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال کو نظر انداز کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہو گئے تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی قرارداد پیش کی، جسے اسپیکر نے منظور کر لیا۔ بعدازاں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق صدارتی فرمان کی منظوری کے لیے قرارداد ایوان میں بحث کی غرض سے پیش کی گئی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ رہا، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی اور سکیورٹی فورسز و شہریوں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ایک سیاسی جماعت کے نظریے کے باعث دہشت گردی کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز کے اندر پارلیمان سے اس کی منظوری لینا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق پاک فوج نے قربانیاں دے کر خیبرپختونخوا میں امن قائم کیا اور دہشت گردی پر قابو پایا تھا، تاہم اب صورتحال دوبارہ سنگین ہو چکی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2024 تک دہشت گردی کے 2 ہزار 911 واقعات پیش آئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے اب تک 3 ہزار 787 واقعات رپورٹ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے صدر مملکت اور وزیراعظم کی خواہش پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور معاملات کو جمہوری انداز میں حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ متعدد بار مفاہمتی مسودوں میں ترامیم بھی کی گئیں، لیکن ان کے بقول دوسری جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کے مطالبات پر زور دیا جاتا رہا۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلانات کیے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والوں کے جنازوں میں شریک ہو اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہو؟

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت نے بار بار واضح کیا کہ دہشت گردی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، تاہم سیاسی مطالبات کو ترجیح دی جاتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی صوبے کو مشکلات میں چھوڑ کر ملکی دوروں پر نکل گئے۔

قانونی معاملات پر بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا اختیار عدالت کے پاس ہے، جبکہ صدر مملکت آئین کے تحت رحم کی اپیل پر اپنا اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی اختلافات کے باوجود مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی، لیکن موجودہ صورتحال میں ریاستی سلامتی کو ترجیح دینا ضروری تھا۔

وفاقی وزیر قانون نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حکومت کے لیے سیاست سے زیادہ ریاست عزیز ہے اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آخری چارے کے طور پر کیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button