تھر کی ریت خون سے رنگین ہے: آخر نوجوانوں کی زندگیاں کون بچائے گا؟

تحریر: ميندھرو کاجھروی
تھرپارکر کی شناخت ہمیشہ صبر، محبت، ثقافت اور قحط سے نبرد آزما لوگوں کی سرزمین کے طور پر رہی ہے۔ مگر آج یہی تھر ایک ایسے خاموش المیے سے گزر رہا ہے جس کے بارے میں بات کرنے سے بھی بہت سے لوگ گریز کرتے ہیں۔ ہر چند دن بعد کسی نہ کسی گاؤں سے ایک نوجوان کی موت کی خبر آتی ہے۔ بیشتر واقعات کو خودکشی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ کئی واقعات کے بارے میں سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ آیا یہ واقعی خودکشیاں ہیں یا کسی اور جرم کو خودکشی کا رنگ دیا جا رہا ہے؟
حقیقت جو بھی ہو، ایک بات بالکل واضح ہے کہ تھر کا نوجوان ذہنی، سماجی اور معاشی دباؤ کے تحت زندگی گزار رہا ہے۔
آج تھر کی ریت خون سے بھر رہی ہے۔ ہر روز ایک نوجوان کی موت، ایک نئی لاش اور ایک اجڑا ہوا گھر خبر بن چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی خبریں اب لوگوں کو حیران بھی نہیں کرتیں۔ گویا ہماری اجتماعی حساسیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے ضمیر کب جاگیں گے؟
مسئلہ صرف خودکشیوں یا پراسرار اموات کا نہیں، بلکہ ان وجوہات کا ہے جو لوگوں کو زندگی سے بیزار کر رہی ہیں۔
تھر کا تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہے۔ جب تعلیم کے باوجود روزگار نہ ملے، جب ایک باپ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے، تو مایوسی دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔
دوسری جانب، تھر کے کئی علاقوں میں آج بھی خواتین میلوں کا سفر طے کرکے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ جہاں زندگی کا ہر دن بقا کی جنگ ہو، وہاں ذہنی سکون اور امید کے پھول کیسے کھل سکتے ہیں؟
ذہنی صحت کا بحران بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈپریشن، اضطراب اور نفسیاتی مسائل کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ بہت سے لوگ مدد مانگنے کو کمزوری سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ بہادری کا قدم ہے۔ تھرپارکر جیسے وسیع ضلع میں ماہرِ نفسیات اور کونسلنگ کی سہولیات کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
اب سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد سے ہے۔
سیاسی رہنماؤں کے پاس جلسوں کے لیے وقت ہے، مگر کیا نوجوانوں کی ذہنی صحت پر بات کرنے کے لیے وقت نہیں؟
اساتذہ کے پاس نصاب پڑھانے کے لیے وقت ہے، مگر کیا طلبہ کے اندر چھپی تکلیف سننے کے لیے وقت نہیں؟
علمائے کرام کے پاس منبر ہیں، مگر کیا امید، برداشت اور ذہنی بیماریوں کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے جگہ نہیں؟
صحافیوں کے پاس خبریں ہیں، مگر کیا صرف لاشیں گننے کے بجائے حل پر بحث کرنا ضروری نہیں؟
وقت آ گیا ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں میں نفسیاتی مشاورت کے مراکز قائم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو بات کرنے، سنے جانے اور سمجھے جانے کا ماحول فراہم کیا جائے۔ روزگار کے حقیقی مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ مایوسی کی جگہ امید لے سکے۔
گھروں میں بھی رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی نوجوان خاموش ہو گیا ہے، تنہائی اختیار کر رہا ہے یا ناامیدی کی باتیں کر رہا ہے تو اسے نصیحتوں کے بجائے ساتھ کی ضرورت ہے۔ اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
تھر کے لوگوں نے قحط سہے ہیں، طوفان جھیلے ہیں اور سخت حالات کا مقابلہ کیا ہے، لیکن جب لوگ اپنے اندر کی جنگ ہارنے لگیں تو یہ پورے معاشرے کی شکست ہوتی ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ہر روز ایک نئی لاش پر افسوس کرتے رہیں گے یا ایک زندگی بچانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
تھر کو صرف پانی، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت نہیں، تھر کو امید کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو زندگی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب ایک نوجوان بچتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک مستقبل اور ایک پورا معاشرہ بچتا ہے۔
زندگی قیمتی ہے۔ بات کرنے میں شرم نہ کریں، اور مدد حاصل کرنے میں دیر نہ کریں۔



