کراچی کی تباہی کا ماسٹر مائنڈ ایم کیو ایم!لسانی کارڈ کا نیا ڈراما،فاروق ستار کے پینترے اور ماضی کا بھیانک چہرہ بے نقاب

کراچی(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)کراچی میں ایک بار پھر لسانی منافرت کو ہوا دینے اور روشنیوں کے شہر کا امن برباد کرنے کے لیے ایم کیو ایم کی نئی بساط بچھانے کی شاطرانہ کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہائشی علاقوں پر چائنا کٹنگ، ندی نالوں پر پلازے کھڑے کرنے اور ماسٹر پلان کی بدترین تباہی کے ذمہ داروں ڈاکٹر فاروق ستار اور وسیم اختر نے حال ہی میں کڈنی ہل پارک کی زمین کا بہانہ بنا کر شہر کو دوبارہ لسانی اور نسلی رنگ دینے کی مذموم کوشش کی ہے۔ پیپلز پارٹی کی ناقص طرزِ حکمرانی اپنی جگہ، مگر کراچی میں قتل و غارت، بھتہ خوری، اور حکومتی بلیک میلنگ کی تاریخ رکھنے والی ایم کیو ایم کا یہ نیا پینترا دراصل خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کا آخری حربہ ہے۔ فاروق ستار، جو کہ اس وقت اپنی ہی جماعت کے اندر خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپوں کے ہاتھوں نظرانداز ہو کر بے وزن ہو چکے ہیں، اپنے دھڑے کی سیاسی بقا اور کامران ٹیسوری کے گورنر ہاؤس کے خفیہ دھندوں کو تحفظ دینے کے لیے دوبارہ ‘مہاجر کارڈ’ کھیل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1988، 1990، 1997 اور مشرف کے نو سالہ دور سمیت ہر وفاقی حکومت میں تگڑی وزارتیں بالخصوص پورٹس اینڈ شپنگ کے مزے لوٹنے والی ایم کیو ایم نے کراچی کے معصوم عوام کو صرف لاشوں، خوف اور دہشت گردی کا تحفہ دیا جبکہ آفاق احمد نے بھی انہیں مہاجر دشمن اور دوبارہ ہجرت کے جال بننے والے قرار دیا ہے، لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ محض ایک نیا خونی کھیل ہے۔

​ایم کیو ایم کی خونی تاریخ، کراچی کے نالوں پر قبضوں، فاروق ستار کی اندرونی گروپنگ اور لسانی کارڈ کے اس نئے ڈرامے کی مکمل اور سنسنی خیز اندرونی کہانی جاننے کے لیے امداد سومرو کا یہ وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button