ایران نے افزودہ یورینیم کا معاملہ امریکا مذاکرات کے ایجنڈے سے خارج قرار دے دیا

ماسکو(ویب ڈیسک)ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں بین الاقوامی سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے علی باقری نے کہا کہ ’’افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔
رپورٹس کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا مستقبل ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات میں سب سے بڑا اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سطح ہتھیاروں کے معیار سے کم ہے، تاہم اس کے بعد مزید افزودگی نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔



