ونگوموڑ پر لکڑیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی روکنے کا تنازع،کلوئی پولیس کیخلاف22Aدرخواست دائر

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ونگو موڑ پر لکڑیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی روکنے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جہاں ایک فریق نے دعویٰ کیا ہے کہ دیوی کی لکڑیاں ان کی سروے شدہ زمین سے کاٹی گئی ہیں، جبکہ دوسرے فریق کےٹ مطابق یہ ان کے حصے کی ملکیت ہیں۔ اس دوران کلوئی پولیس کا مؤقف سامنے آیا ہے کہ مذکورہ زمین سرکاری ہے۔ فریقین نے الزام عائد کیا ہے کہ کلوئی تھانہ اب قانون نافذ کرنے والا ادارہ بننے کے بجائے بااثر افراد کی اوطاق بن چکا ہے، جہاں سائلین کو قانونی طریقے سے سننے کے بجائے سیاسی دروازوں پر جانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب سیشن کورٹ مٹھی میں فریادی حاجی لنڈ کی جانب سے ایس ایچ او کلوئی سراج ساند، ہیڈ کانسٹیبل جمن ڈیسر نہڑی اور بڑے منشی رمضان بجیر کے خلاف دفعہ 22A کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے، جس کی سماعت 03 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق نامزد اہلکار گزشتہ شام ایک نجی مہران کار میں سول کپڑوں میں آئے اور حاجی لنڈ کی سروے شدہ زمین سے دیوی کی لکڑیوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کو ونگو موڑ کے مقام پر روک لیا۔ الزام ہے کہ اہلکاروں نے ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا، ویڈیو بنانے والے شخص کا موبائل فون چھین لیا اور ٹریکٹر ٹرالی کو لکڑیوں سمیت تھانے لے جانے کے بجائے کسی نامعلوم نجی مقام پر منتقل کر دیا۔ فریادی فریق کے مطابق ونگو موڑ پر سرِعام تشدد اور مبینہ ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا، جہاں مقامی رہائشیوں نے حاجی لنڈ اور ڈرائیور کو مزید تشدد سے بچایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کلوئی پولیس گردی عروج پر پہنچ چکی ہے، جس کے خلاف سیشن کورٹ مٹھی میں 22A کے تحت درخواست دائر کی گئی ہے۔ دوسری طرف کلوئی کے قریب گاؤں کاڑک کی رہائشی بانو لنڈ نے اپنے بیٹے دیدار لنڈ کے ہمراہ اپنے دیور کامریڈ حاجی لنڈ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مشترکہ ملکیتی زمین پر زبردستی قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ زمین سے بغیر اجازت لکڑیاں بھی کاٹی گئی ہیں۔



