کاک پٹ سے اکانومی کلاس: نتن یاہو کے جلتے بال، ٹرمپ کا دوغلا خنجر اور پاکستان کا ماسٹر سٹروک

نہال معظم
ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت ہمیشہ سے ایک ایسے جواری کی سیاست رہی ہے جو کھیل جیتنے سے زیادہ میز الٹنے پر یقین رکھتا ہے۔ واشنگٹن کے سچویشن رومز، تل ابیب کی جنگی سرگوشیوں اور تہران کی خاموش راہداریوں میں اس وقت جو کھیل جاری ہے، وہ کسی عام سیاسی کشمکش سے بڑھ کر طاقت، دھوکے اور مفاد کی ایسی رسہ کشی معلوم ہوتی ہے جہاں ہر کھلاڑی خود کو فاتح سمجھ رہا ہے۔ جب جنگ شروع ہوئی تھی تو بنجمن نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کا گٹھ جوڑ ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے دو یار غار مل کر مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ ہمیشہ کے لیے بدلنے نکلے ہیں۔ واشنگٹن میں بیٹھ کر ایرانی نظام کی الٹی گنتی گنی جا رہی تھی اور نیتن یاہو اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ خطے کے بلا شرکتِ غیرے بادشاہ بننے والے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ سپر پاورز کے نہ کوئی مستقل دوست ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی ایمان، وہاں صرف اور صرف اپنے مفادات کی پوجا کی جاتی ہے۔ آج نیتن یاہو مغلوب غصے اور عبرت ناک ذلت کے ساتھ خود کو اسی طیارے کے کاک پٹ سے بے آبرو ہو کر نکلتا اور اکانومی کلاس کی آخری نشست پر سفر کرتا ہوا پا رہے ہیں، جس کا پائلٹ خود ان کا وہ "سرمئی یار” ہے جو کسی کا سگا نہیں۔
سفارت کاری کی اس شطرنج پر سب کا فریم تب ہلا جب پاکستانی انٹیلیجنس کے ایک مائنڈ بلونگ ماسٹر سٹروک نے حجازِ مقدس اور مشرقِ وسطیٰ کو خون میں نہلانے کا انتہائی بھیانک اور خوفناک اسرائیلی سیبوٹیج پلان مٹی میں ملا دیا۔ نیتن یاہو حکومت نے ایک گھناؤنا اور خطرناک کھیل رچایا تھا، جس کے تحت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر فالس فلیگ ڈرون حملے کروا کر اس کا سارا ملبہ ایران پر ڈالنا تھا، تاکہ حج کے مقدس ایام میں پوری مسلم دنیا کو تہران کے خلاف صف آرا کر کے امریکہ کو زبردستی اس جنگ کی دلدل میں گھسیٹا جا سکے۔ لیکن صہیونی عیاری کا یہ نیٹ ورک اسلام آباد کی عقابی نظروں سے نہ بچ سکا۔ پاکستانی ایجنسیوں نے ناقابلِ تردید دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد واشنگٹن, ریاض اور ابوظہبی کے سامنے رکھ کر اس ہولناک سازش کا پردہ چاک کر دیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی تباہی سے بچا لیا جس کا تصور بھی محال تھا۔
اس گھناؤنے کھیل کی سچائی جیسے ہی وائٹ ہاؤس پہنچی، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔ امریکی جریدے ‘ایکسیاس’ کی تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو فون پر ایسی عبرت ناک اور غلیظ گالیاں دیں کہ جریدے کے الفاظ میں "نتن یاہو کے بال جل کر رہ گئے” اور وہ اندر تک حواس باختہ ہو گئے۔ نیویارک ٹائمز کے حالیہ سنسنی خیز انکشافات بھی اس زلزلے کی تصدیق کرتے ہیں، جہاں یہ ببانگِ دہل واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین پسِ چلمن ہونے والے انتہائی حساس مذاکرات سے اسرائیل کو بالکل ویسے ہی الگ رکھا گیا جیسے کسی مکھن سے بال نکالا جاتا ہے۔ عبرت کا مقام تو یہ ہے کہ تل ابیب کو اس خفیہ ڈیل کی خبر واشنگٹن کے مربیوں نے نہیں، بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور اپنی بیساکھیوں پر کھڑی انٹیلیجنس کے ذریعے ملی، جو نیتن یاہو کے منہ پر ایک زوردار سفارتی طمانچہ ہے۔
ٹرمپ کی یہ کاروباری اور موقع پرست جبلت اب نیتن یاہو کو بیچ چوراہے پر ننگا کر کے اپنی سیاسی بقا کی ڈیل چاہتی ہے۔ ٹرمپ خطے میں کسی لامتناہی اور مہنگی جنگ کے لیے اپنی جیب ڈھلی کرنے کے روادار کبھی نہیں تھے، اور اب جب آبنائے ہرمز میں لگی آگ نے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کا جنازہ نکالنا شروع کیا، تو ٹرمپ کا سارا خمار ایک جھٹکے میں ہرن ہو گیا۔ ٹرمپ نے اب واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اب صرف اور صرف پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ہی ایران کے ساتھ امن ڈیل کی طرف بڑھے گا، چاہے اسرائیل خون کے آنسو روئے یا زمین پر سر پٹخے۔ اس ذلت آمیز بین الاقوامی تھپڑ کے بعد تل ابیب میں اسرائیلی حکومت کا بوریا بستر گول ہو چکا ہے، جنگی کابینہ کا دھڑن تختہ ہو گیا ہے اور نیتن یاہو نے اپنی ڈوبتی پوزیشن کو بچانے کے لیے قبل از وقت انتخابات کی قرارداد پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اسمبلی تحلیل کرنے کا بزدلانہ فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان کی اس عالمی انٹیلیجنس برتری اور تاریخی معرکے کا اگلا مرحلہ تہران میں سجا ہے، جہاں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر ایک انتہائی اہم اور تاریخی مشن پر پہنچ رہے ہیں۔ وہ ایرانی قیادت سے ایک خصوصی ‘لیٹر آف انٹینٹ’ پر دستخط کروائیں گے، جس کے تحت امریکہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ابتدائی طور پر 25 فیصد فروزن اثاثے فوری بحال کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ نیا معرکہ اب صرف بارود کا نہیں بلکہ اعصاب اور عیاری کا کھیل بن چکا ہے، جہاں نیتن یاہو کا عبرت ناک انجام ہو چکا ہے اور ٹرمپ جیسا ناقابلِ اعتبار کھلاڑی اسلام آباد کے ماسٹر سٹروک کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اپنے اقتدار کا آخری جوا کھیل رہا ہے۔



