ایرانی پیٹرولیم مصنوعات نے پاکستانی ریفائنریوں کو خطرے میں ڈال دیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں ایرانی اسمگل شدہ پیٹرولیم مصنوعات نے مقامی آئل ریفائنریوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد پاکستان کا ہفتہ وار تیل درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک جا پہنچا ہے، جس سے ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسی دوران ایرانی ڈیزل اور پٹرول کی اسمگلنگ میں بھی نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
پارکو، پاکستان ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور اٹک ریفائنری سمیت بڑی کمپنیوں نے اوگرا کو مشترکہ خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ غیرقانونی ایرانی تیل مقامی صنعت کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ریفائنریوں کے مطابق روزانہ تقریباً 5 ہزار ٹن اسمگل شدہ ڈیزل پاکستان لایا جا رہا ہے، جو ملک کی مجموعی ڈیزل طلب کا تقریباً 23 فیصد بنتا ہے۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت سرحدی اسمگلنگ روکنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، بصورت دیگر مقامی ریفائنریوں کی پیداوار، مالی استحکام اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب اور کویت نے پاکستان کو تیل کی فراہمی بڑھا دی ہے تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔



