نیتن یاہو کا خفیہ دورہ ابوظہبی، اصل نشانہ ایران یا سعودی عرب؟ سنسنی خیز انکشافات

ابوظہبی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اس وقت شدید سنسنی پھیل گئی ہے جب اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خفیہ دورے اور صدر محمد بن زاید کی جانب سے شاہی محل میں ان کے پرتپاک استقبال کے بعد ایک انتہائی ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ صحافتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے پس پردہ ایک ایسے اربوں ڈالر کے خفیہ مشترکہ دفاعی فنڈ پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد صرف ایران کو ہی کاؤنٹر کرنا نہیں بلکہ خطے میں ایک نئی گریٹر اسرائیل کی سازش کو پروان چڑھانا ہے۔ اس خفیہ منصوبے کے تحت یو اے ای عزرائیل کو بے پناہ فنڈنگ فراہم کرے گا جس سے جدید ترین ڈرونز اور تباہ کن میزائل ڈیفنس سسٹمز تیار کیے جائیں گے، جب کہ عزرائیل اس سرمائے کو اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے استعمال کرے گا۔ بظاہر یہ الائنس ایران کے خلاف دکھائی دیتا ہے لیکن گہرائی میں اس کا اصل ہدف سعودی عرب، سوڈان اور مسلم دنیا کی بڑی طاقتیں ہیں، جہاں پراکسیز کے ذریعے پورے خطے کا نقشہ بدلنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس الائنس کے تانے بانے انڈیا، یونان اور سائپرس سے بھی مل رہے ہیں تاکہ ترکی اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اشتراک کا راستہ روکا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے والے اس بھیانک کھیل نے مسلم امہ کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس ہولناک انکشاف اور مشرق وسطیٰ کی خطرناک ترین اندرونی کہانی کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معروف صحافی توصیف احمد خان کا یہ وی لاگ لازمی دیکھیں۔
وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




