امریکا میں ہوٹل نے خاتون فوڈ انفلوئنسر سے کیک کاٹنے کے 110 ڈالرزائد چارج کرلیے، سوشل میڈیا پر ہنگامہ

امریکا(جانوڈاٹ پی کے)جنوبی کیلیفورنیا کے علاقے بیورلی ہلز کے ایک ہوٹل کی جانب سے کیک کاٹنے کے پیسے لیے گئے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک خاتون فوڈ انفلوئنسر نے اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک ہوٹل کے روف ٹاپ پر کھانا کھایا جہاں انہوں نے کیک بھی کاٹا۔
فوڈ انفلوئنسر کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر بتایا گیا کہ ہوٹل انتظامیہ نے کیک کاٹنے کے 110 ڈالرز یعنی پاکستانی 30 ہزار 641 روپے چارج کیے ہیں، یہ رقم دیکھ کر کر انفلوئنسر بھی دنگ رہ گئی۔
خاتون نے اپنی ویڈیو میں بل کو بھی دکھایا اور کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے فی بندہ 10 ڈالر چارج کیے گئے جس کیلئے ہمیں پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
فوڈ انفلوئنسر کی جانب سے ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تبصروں کا سلسلہ جاری ہے، کسی نے ہوٹل انتظامیہ پر تنقید کی تو کسی نے حیرت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہوٹل انتظامیہ کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہمیں بہت افسوس ہے کہ مہمانوں کو ہماری کیک کاٹنے کی فیس کے بارے میں صحیح طور پر آگاہ نہیں کیا گیا، یہ ہمارے معیار کی عکاسی نہیں کرتا، اور کیک لانے کے بعد فیس کے بارے میں مطلع کیا جانا چاہیے تھا۔
انتظامیہ نے خاتون کو کیک کاٹنے کی فیس واپس کرنے کا بھی کہا اور ساتھ ہی اعلان بھی کیا کہ فی بندہ کیک کاٹنے کا چارج 10ڈالر سے کم کر کے 5 ڈالر کر دیا گیا ہے۔
View this post on Instagram



