پنکی ڈان کا تماشا بند: وزیرِ قانون کا بڑا ایکشن، سنگین مجرموں کو میڈیا پر لانے پر پابندی کا حکم!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) حال ہی میں گرفتار ہونے والی بدنامِ زمانہ منشیات فروش "پنکی ڈان” کا معاملہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوان یعنی قومی اسمبلی تک جا پہنچا ہے۔ عدالت میں پیشی کے وقت پنکی ڈان کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف کا نام لیے جانے پر راجہ صاحب نے ایوان میں شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ راجہ پرویز اشرف نے واضح کیا کہ ان کا اس نوعیت کے گھٹیا جرائم یا خاتون سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، اور بعد میں خاتون کے وکیل نے بھی اعتراف کیا کہ ان کی موکل پر راجہ پرویز اشرف اور بنی گالا کی ایک شخصیت کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ اس سنگین معاملے پر وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے مداخلت کرتے ہوئے آئی جی کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ منشیات یا سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو میڈیا کے سامنے کھلم کھلا بیانات دینے اور تماشا لگانے کی اجازت نہ دی جائے۔ ادھر کراچی میں بھی اس گٹھ جوڑ کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے جہاں ڈی آئی جی ویسٹ نے 20 پولیس اہلکاروں کو زون بدر کر دیا ہے جبکہ پنکی ڈان کی مدد کرنے والے ایک سابق برطرف کانسٹیبل کی گرفتاری کی مدد سے اس پورے گینگ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں اور قومی اسمبلی کے ایوانوں میں اس وقت شدید سنسنی پھیلی ہوئی ہے جہاں مقتدر حلقوں اور وفاقی کابینہ کے درمیان سنگین اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور مشیرِ وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ کی جانب سے ووٹر کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے اور 28ویں آئینی ترمیم لانے کے دعوے پر خود حکومت کے اپنے وزراء نے پانی پھیر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ اور طارق فضل چوہدری نے رانا ثناء اللہ کے اس اہم ترین بیان کو محض "افواہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ کو خود نہیں معلوم کہ ان کی سمت کیا ہے اور پسِ چلیپا کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجویز نوجوانوں میں عمران خان کی مقبولیت کے خوف کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے۔
کابینہ کے ان اندرونی اختلافات، آئینی ترامیم کے پیچھے چھپے اصل مقاصد اور قومی اسمبلی کی اس گرما گرم کارروائی کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے سینیئر صحافی امداد سومرو کا یہ وی لاگ دیکھیں۔
وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر وزٹ کریں:




